صحرا کی سفید پوش لوگ دل کے امیر اور میزبانی کے بادشاہ ہیں، مہمان کے لیے بچھ ہی جاتے ہیں، صحرا کی ’گندی‘ آج بھی بطور نشانی میرے پاس محفوظ ہے۔
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 436
یہ بھی پڑھیں: امارات کی حمایت یافتہ RSF کے سوڈان میں مظالم جاری، تازہ حملے میں 24 افراد جاں بحق
اجڑی عمارت کا ماضی
اجڑی عمارت اپنے پرشکوہ ماضی کی کہانی سنا رہی تھی۔ کبھی یہ یہاں کے بے شمار قلعوں کی سردار عمارت تھی اور 1971ء کی پاک، بھارت جنگ سے پہلے اس قلعہ کا ماضی کا رعب اور عمارت کا دبدبہ زندہ تھا۔ جنگ میں بھارتی گولہ باری سے تباہ ہوئی اور پھر ہماری بے حسی کا شکار ہو کر وقت اور زمانے کی دھول میں چھپتی جلد ہی دھول میں ہی مل کر یاد ماضی اور تاریخ کے پنوں کی کہانی ہی رہ جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے ’’عوامی مشروب‘‘ کی نئی قیمت مقرر کردی
محیط کا حال
مرکزی دروازے پر لاکھوں کی تعداد میں گری چمگاڈر کی ”بیٹھیں“ جہاں ماحول کو تعفن زدہ کئے تھیں، وہیں کوے کی جسامت کے برابر اڑتے چمگاڈر ماحول پر خوف طاری کئے تھے۔ عاستے کی سنسنی نے یہاں لا کر اداس کر دیا۔ اس اداسی کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے کی کوشش ناکام ہی رہی تھی، البتہ اس اداسی کی ایک تصویر میں سے اپنے سفر نامے 'ریت سے روح تک' کے بیک پیج پر لگا کر اپنی اداسی کو زندہ جاوید کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم نے کراچی کو قتل و غارت اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا: سینیٹر وقار مہدی
یادگار دعوت
واپسی پر ”ٹوبھہ پنج کوئی“ میں ”جام اسماعیل کلر“ کی صحرائی پر تکلف دعوت آج بھی اس صحرائی دریا دلی کی یاد تازہ رکھے ہے۔ صحرائی سفید پوش لوگ دل کے امیر اور میزبانی کے بادشاہ ہیں۔ مہمان کے لئے بچھ ہی جاتے ہیں۔ صحرائی ”گندی“ (صحرائی عورتوں کی کئی رنگوں کی تیار کردہ چادر۔) آج بھی بطور نشانی میرے پاس محفوظ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: واضح اور دو ٹوک مطالبہ کرتے ہیں عمران خان تک فوری، بلا تاخیر اور بلا رکاوٹ اہلِ خانہ اور قانونی ٹیم کو پہنچائی جائے، اسد قیصر
کتاب کی رونمائی
ریت سے روح تک؛ جولائی 2013ء میں میرے سفر نامے 'ریت سے روح' کی کتاب رونمائی کی تقریب اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے 'سر صادق محمد' ہال میں منعقد ہوئی۔ ریحان بن جاوید اس تقریب کا میزبان تھا جبکہ جسٹس(ر) فرخ محمود مہمان خصوصی تھے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں شوہر نے سسرال میں تیز دھار آلے سے بیوی کی جان لے لی
مہمانوں کا تعارف
دوسرے مہمانوں میں بہاول پور کی مشہور ادبی شخصیت تابش الوری، حبیب اللہ بھٹہ (یہ باکنال انسان بھی جون 2023ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔ باغ و بہار اور خوشبودار شخصیت تھے) ریڈیو پاکستان بہاول پور کے پروگرام منیجر سجاد بری، میرا دوست امتیا ز چیمہ، سعید سلطان ریڈیو پاکستان بہاول پور، ویسیب کے مسعود صابر، محترمہ عمارہ منظور، وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی ڈاکٹر محمد مختار، ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب (ڈاکٹر جاوید اقبال بہاول پور کے معروف سرجن، باغ و بہار شخصیت اور فرشتہ سیرت انسان ہیں۔) ملک مشتاق اور حاضرین کی بڑی تعداد شامل تھی۔ سب سے بڑھ کر میرے بیٹے عمر، احمد اور بیگم عظیٰ بھی موجود تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل مسجد کی حرمت سے متعلق درخواست پر انچارج مسجد کو نوٹس
شرکاء کے تاثرات
کتاب کے حوالے سے پروگرام کے شرکاء کے خیالات نے میرا دل سمندر جتنا بڑا کر دیا۔ یقیناً میرے اور میری فیملی کے لئے یہ بڑے فخر اور اعزاز کے لمحات تھے۔ وی سی صاحب نے فرمایا؛ ”یہ کتاب بہاول پور کی تاریخ میں ہمیشہ بطور ریفرنس بک یاد رکھی جائے گی۔“ تابش الوری صاحب نے کہا؛ ”ایک لاہوریا نے آکر یہاں کی تاریخ تمدن پر کتاب لکھ کر ہمارے دل جیت لئے ہیں۔“ مہمان خصوصی نے کہا؛ ”یہ سب نا قابل یقین ہے کہ ایک سرکاری افسر نے اتنی سادہ، روان اور شاندار تحریر سے اپنے جذبات کا اظہار مصنف کی اس خطے اور وطن سے محبت کا عکاس ہے۔“
تفصیلات کا اختتام
نوٹ: یہ کتاب 'بک ہوم' نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








