صحرا کی سفید پوش لوگ دل کے امیر اور میزبانی کے بادشاہ ہیں، مہمان کے لیے بچھ ہی جاتے ہیں، صحرا کی ’گندی‘ آج بھی بطور نشانی میرے پاس محفوظ ہے۔

مصنف کی تفصیلات

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 436

یہ بھی پڑھیں: 1 مئی کے کیسز یکجا کرنے سے متعلق اپیل؛ سپریم کورٹ نے فواد چوہدری کی درخواست مسترد ہونے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا

اجڑی عمارت کا ماضی

اجڑی عمارت اپنے پرشکوہ ماضی کی کہانی سنا رہی تھی۔ کبھی یہ یہاں کے بے شمار قلعوں کی سردار عمارت تھی اور 1971ء کی پاک، بھارت جنگ سے پہلے اس قلعہ کا ماضی کا رعب اور عمارت کا دبدبہ زندہ تھا۔ جنگ میں بھارتی گولہ باری سے تباہ ہوئی اور پھر ہماری بے حسی کا شکار ہو کر وقت اور زمانے کی دھول میں چھپتی جلد ہی دھول میں ہی مل کر یاد ماضی اور تاریخ کے پنوں کی کہانی ہی رہ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: علامتیں اور شناختیں بچپن سے ہی آپ کو لاحق ہو جاتی ہیں، آپ کبھی بھی دور نہیں کر سکتے، انہیں محض معمولاتِ زندگی کی حیثیت سے قبول کر لیا جاتا ہے.

محیط کا حال

مرکزی دروازے پر لاکھوں کی تعداد میں گری چمگاڈر کی ”بیٹھیں“ جہاں ماحول کو تعفن زدہ کئے تھیں، وہیں کوے کی جسامت کے برابر اڑتے چمگاڈر ماحول پر خوف طاری کئے تھے۔ عاستے کی سنسنی نے یہاں لا کر اداس کر دیا۔ اس اداسی کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے کی کوشش ناکام ہی رہی تھی، البتہ اس اداسی کی ایک تصویر میں سے اپنے سفر نامے 'ریت سے روح تک' کے بیک پیج پر لگا کر اپنی اداسی کو زندہ جاوید کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کا ذاتی ڈاکٹرز سے چیک اپ کرانے کی درخواست خارج

یادگار دعوت

واپسی پر ”ٹوبھہ پنج کوئی“ میں ”جام اسماعیل کلر“ کی صحرائی پر تکلف دعوت آج بھی اس صحرائی دریا دلی کی یاد تازہ رکھے ہے۔ صحرائی سفید پوش لوگ دل کے امیر اور میزبانی کے بادشاہ ہیں۔ مہمان کے لئے بچھ ہی جاتے ہیں۔ صحرائی ”گندی“ (صحرائی عورتوں کی کئی رنگوں کی تیار کردہ چادر۔) آج بھی بطور نشانی میرے پاس محفوظ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں 50 ایکٹر اراضی پر پاکستان کی سب سے بڑی نرسری تکمیل کے قریب، وزیر داخلہ محسن نقوی کا سی ڈی اے ماڈل نرسری کا دورہ

کتاب کی رونمائی

ریت سے روح تک؛ جولائی 2013ء میں میرے سفر نامے 'ریت سے روح' کی کتاب رونمائی کی تقریب اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے 'سر صادق محمد' ہال میں منعقد ہوئی۔ ریحان بن جاوید اس تقریب کا میزبان تھا جبکہ جسٹس(ر) فرخ محمود مہمان خصوصی تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری کے وارنٹ گرفتاری جاری

مہمانوں کا تعارف

دوسرے مہمانوں میں بہاول پور کی مشہور ادبی شخصیت تابش الوری، حبیب اللہ بھٹہ (یہ باکنال انسان بھی جون 2023ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔ باغ و بہار اور خوشبودار شخصیت تھے) ریڈیو پاکستان بہاول پور کے پروگرام منیجر سجاد بری، میرا دوست امتیا ز چیمہ، سعید سلطان ریڈیو پاکستان بہاول پور، ویسیب کے مسعود صابر، محترمہ عمارہ منظور، وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی ڈاکٹر محمد مختار، ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب (ڈاکٹر جاوید اقبال بہاول پور کے معروف سرجن، باغ و بہار شخصیت اور فرشتہ سیرت انسان ہیں۔) ملک مشتاق اور حاضرین کی بڑی تعداد شامل تھی۔ سب سے بڑھ کر میرے بیٹے عمر، احمد اور بیگم عظیٰ بھی موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: شہزاد اکبر پر حملے کی تحقیقات اسکاٹ لینڈ یارڈ کے کاونٹر ٹیرر ازم یونٹ نے سھنبال لی ، ذرائع کا دعویٰ

شرکاء کے تاثرات

کتاب کے حوالے سے پروگرام کے شرکاء کے خیالات نے میرا دل سمندر جتنا بڑا کر دیا۔ یقیناً میرے اور میری فیملی کے لئے یہ بڑے فخر اور اعزاز کے لمحات تھے۔ وی سی صاحب نے فرمایا؛ ”یہ کتاب بہاول پور کی تاریخ میں ہمیشہ بطور ریفرنس بک یاد رکھی جائے گی۔“ تابش الوری صاحب نے کہا؛ ”ایک لاہوریا نے آکر یہاں کی تاریخ تمدن پر کتاب لکھ کر ہمارے دل جیت لئے ہیں۔“ مہمان خصوصی نے کہا؛ ”یہ سب نا قابل یقین ہے کہ ایک سرکاری افسر نے اتنی سادہ، روان اور شاندار تحریر سے اپنے جذبات کا اظہار مصنف کی اس خطے اور وطن سے محبت کا عکاس ہے۔“

تفصیلات کا اختتام

نوٹ: یہ کتاب 'بک ہوم' نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...