عوام ہی اصل طاقت ہیں اور کرشموں کا مرکز ہیں، حکمرانی کے معاہدے کو غلامی کے معاہدے میں تبدیل کر دیا ہے، اس معاہدے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے
مصنف کا تعارف
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 304
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے شوگر ملز سے چینی کی خریداری کے لیے 9 شرائط عائد کردیں
مسلمانوں کی فکری حالت
مسلمانوں کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ ان میں گہری سوچ اور منصوبہ بندی کی صلاحیت نہیں ہے۔ انوار سادات نے کہا تھا کہ مسلمانوں نے ایک ہزار سال سے کوئی ایسی کتاب نہیں لکھی، جس نے افکار عالم میں زلزلہ برپا کر دیا ہو۔ مسلمانوں میں حالات کا درست تجزیہ کرنے اور پھر حکمت عملی بنانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ مسلمان عقیدے کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں جبکہ مغرب والے ہر مسئلے کے تمام پہلو اور زاویے دیکھ کر پالیسی بناتے ہیں۔ اس لیے ہر پہلو سامنے آ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہنی ٹریپ کے ذریعے نوجوانوں کا اغوا اور کچے کے ڈاکوؤں کی سہولت کار مشہور ٹک ٹاکر عروسہ سولنگی گرفتار
حکومت اور عوام کا معاہدہ
حکومت اور عوام کے درمیان ایک غیر تحریری معاہدہ ہوتا ہے۔ حکمران اپنے اختیار کو غلط استعمال کرتے ہیں اور عوام پر غلامی مسلط کر دیتے ہیں۔ انسان آزاد پیدا ہوتا ہے لیکن اسے مختلف زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ حکمرانی کے معاہدے کو حکمرانوں نے غلامی کے معاہدے میں تبدیل کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ کو ہاسٹل میں اس کی تین رومیٹس کی موجودگی میں گولی مار قتل کر دیا گیا
عوام کی طاقت
یہ معاہدے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام نے اپنا حق خود سرنڈر کر دیا ہے۔ عوام ہی اصل طاقت ہیں اور کرشموں کا مرکز ہیں۔ رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرب کے بدوؤں میں طاقت اور کرشمہ پیدا کیا اور عظیم تبدیلی لائے۔ عوام کو مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرب علی نے سال 2025ء کو زندگی کا مشکل ترین سال قرار دیدیا
پاکستان میں گورننس کا ماڈل
پاکستان میں گورننس کا ماڈل "Might is right" پر مبنی ہے۔ حکمران اپنے آپ کو مالک تصور کرتے ہیں اور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں۔ یہ ماڈل قابل قبول نہیں۔ انسان کو بے اختیار بنا دیا گیا ہے۔ پوری دنیا میں یہ حکمران طبقات ایک دوسرے کی مدد اپنے مفادات کے لیے کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، خیبرجرگے کے فیصلوں کی حمایت، 8 فروری شٹرڈاؤن پر کام تیز کرنے کا فیصلہ
تبدیلی کی ضرورت
حکمرانی کا اصل ماڈل ایسا ہے جس کے چاروں خانے برابر ہیں۔ ہماری سوچ سائنسی نہیں ہے، لیکن ہماری نئی نسل بہت ذہین ہے۔ چند سو لوگ بھی اپنے آپ کو درست کر لیں تو زبردست تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر سے زنگ دور کریں اور پھر اپنے بچوں کی شخصیت سے بھی دور کریں۔ ہمیں صرف نیک نیتی اور خلوص کی ضرورت ہے۔
نئی امید اور مستقبل
پاکستان کسی کی کٹھ پتلی نہیں بنے گا۔ چند سالوں میں حکمرانی کے سیٹ اپ میں انقلابی تبدیلی آنے والی ہے۔ وقت کو کوئی روک نہیں سکتا، اور اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔ صرف امید کو برقرار رکھنا ہوگا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








