پڑھائی مہم ختم ہو چکی تھی، عجیب سی فراغت کا شکار تھے، سینما ہالز میں قطاریں لمبی ہوگئیں، مرغ پلاؤ کی دکان پر رش بڑھنے لگا۔ بند مکھن، لسی کی چاندی ہوگئی۔

مصنف کا تعارف

مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 55

یہ بھی پڑھیں: علامہ اقبال اور ایما: عشق یا سادگی کی انتہا؟

شاہ صاحب کا اثر

آپ کو پوچھنے کا تو حق حاصل ہے کہ آخر شاہ صاحب کے متعلق اتنا لمبا چوڑا تمہیدی مضمون باندھنے کا کیا مطلب ہے؟ سو جناب شاہ صاحب کے جاتے ہی میں نے بھی ایک عدد "Stove" بازار سے جا کر خریدا اور کوشش کر کے ہوسٹل میں واحد 6'x4' کے "کیو بیکل" میں شفٹ ہوگیا۔ صبح سویرے حلوہ تیار کر کے ایک ٹفن کیرئیر میں ڈال لیا کرتا اور کورس کی چند کتابیں بمعہ ٹفن کیرئیر صبح نماز کے وقت ساتھ واقع محلہ "گورونانک پورہ" میں ایک واقف کار کی دودھ دہی کی دوکان پر چھوڑ آتا۔

یہ بھی پڑھیں: پولیو ٹیم سے ناروا سلوک پر 3 افراد کو گرفتار کرلیا گیا

پڑھائی کا معمول

آکر حسب معمول نہا دھو کر کپڑے بدل کر دوستوں کے ساتھ ناشتہ کر کے خوش گپیاں کرتے چپکے سے نکل جاتا اور دوکان سے اپنی کتابیں اور ٹفن کیرئیر لے کر شہر سے باہر دو ڈھائی کلو میٹر زرعی رقبوں میں کوئی سرسبز و شاداب چارہ کی فصل کا کھیت جہاں درخت کی گھنی چھاؤں ہوتی دیکھ کر ڈیرہ لگا لیتا اور دوپہر تک خوب دل لگا کر پڑھتا اور دوپہر کو حلوہ کھاتا اور شاہ صاحب کو دعائیں دیتا۔ پھر کھڑا ہو کر اِدھر اُدھر دیکھتا کہ دُور دُور تک کوئی انسان نظر آتا ہے کہ نہیں۔ اگر جواب مثبت میں ہوتا تو وہیں لیٹ کر آرام کرتا۔ اگر جواب نفی میں ہوتا تو "محمد رفیع" کے گانے پوری آواز سے گاتا اور ظاہر ہے تعریف کے ڈونگے خود ہی پر برساتا۔ یاد رہے اُن دنوں محمد رفیع اپنے کیرئیر کی بلندیوں کو چُھو رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا فیروز والا کے قریب ٹریفک حادثے میں جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس

کالج کی زندگی

شام کو واپسی پر ہوسٹل میں پوچھ گچھ ہوتی کہ جناب آج کہاں غائب رہے؟ تو پہلے سے گھڑی گھڑائی کہانی سنا دی جاتی اور پھر اُن کے ساتھ اُسی طرح خوش گپیوں میں وقت گذار دیا جاتا۔ اِس طرح یہ تین ماہ کی تعلیمی "چور بازاری" جاری رہی۔ گورنمنٹ کالج لائل پور (اب فیصل آباد) میں بی ایس سی کا امتحان ہم 24 لڑکوں نے دیا اور 1953ء کا بی ایس کا رزلٹ گواہ ہے کہ ان میں سے 3 لڑکے کامیاب ہوئے تھے، وہ بھی تینوں کے 3 تھرڈ ڈویژن میں۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی پی پی 52 کا ضمنی الیکشن تن، من دھن سے لڑے گی: گورنر پنجاب

فخر کا لمحہ

اب خادم کا آپ سٹیٹس پوچھیں گے تو جناب میں فخریہ کہا کرتا تھا کہ میں 1953ء کے بی ایس سی کے امتحان میں اپنے کالج میں تھرڈ آیا تھا۔ اب بتائیں یہ اعزاز حاصل کر لینے کے بعد بھی میں اگر شاہ صاحب کا شکر گزار نہ ہوں تو زیادتی ہوگی کہ اُن کے "سٹوو" پر بنائے اور کھلائے حلوہ کی ترکیب کی بدولت میں نے گورنمنٹ کالج فیصل آباد کی جان چھوڑ دی۔ ورنہ ناجانے اور کتنے سال اُن درو دیواروں میں مقید رہتا۔ شاہ صاحب زندہ باد!!

یہ بھی پڑھیں: فیروزوالہ میں افسوسناک واقعہ، 25 سالہ پولیس کانسٹیبل نے خودکشی کر لی

ہاسٹل کا ماحول

بی ایس سی کے امتحان کے اختتام پر پچھلے صفحوں میں بیان کی گئی آخری 3 ماہ کے لیے اپنائی گئی "پڑھائی مہم" ختم ہو چکی تھی اور ہوسٹل کے سبھی مکین ایک عجیب سی فراغت کا شکار تھے۔ کوئی جہاں بیٹھا ہے وہیں بیٹھا ہے۔ میں لیٹا ہوں تو اٹھنے کا نام نہ لے رہا ہوں۔ کوئی شہر کی طرف گھومنے چلا گیا تو سات نہیں آٹھوں کے آٹھ بازاروں کا چکر لگا کر آئے گا۔ سینما ہالز میں قطاریں لمبی ہوگئیں۔ گھنٹہ گھر کے پاس مرغ پلاؤ کی دکان پر رش بڑھنے لگا۔

آخری تیاری

بند مکھن، لسی کی چاندی ہوگئی تھی۔ دھوبی دن میں کئی چکر لگا رہا تھا۔ سبھی کپڑے دھو دُھلوا کر اب ہوسٹل سے جانے کی تیاری میں تھے۔ کچن کے ملازمین لڑکوں کی کچھ زیادہ ہی خدمت گزاری میں مصروف نظر آتے تھے تاکہ روانگی کے وقت ملنے والے انعام و اکرام کو دو آتشہ کر سکیں۔ اور رات کو ہر کسی کی کوشش ہوتی کہ چارپائی کمرے سے گھسیٹ کر صحن میں لے آئے اور اِدھر اُدھر ہونے والی ہر بات ہر تذکرے کا احاطہ کر سکے۔ (جاری ہے)

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...