توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کیخلاف سماعت پر فیصلہ محفوظ، فیملی ممبر کی موجودگی میں بانی کا میڈیکل کرانے کی استدعا مسترد
سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کیخلاف سماعت پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور فیملی ممبر کی موجودگی میں بانی کا میڈیکل کرانے کی استدعا مسترد کردی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی ٹل گئی، ٹرمپ کا چین کے ساتھ ڈیل کو قانونی قرار دینے کا فیصلہ
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کیخلاف سماعت ہوئی، چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک پولیس لاہور کے لیے نئے یونیفارم کی منظوری دے دی
حفاظتی اقدامات اور طبی معائنہ
بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی اقدامات اور کھانے پینے کی سہولیات پر اظہار اطمینان کیا، بیرسٹر سلمان صفدر نے رپورٹ میں شامل سفارشات پڑھ کر سنائیں۔ سلمان صفدر نے کہاکہ بانی کا طبی معائنہ فیملی ممبر کی موجودگی میں کرایا جائے، عدالت نے فیملی ممبر کی موجودگی میں میڈیکل کرانے کی استدعا مسترد کردی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کسی کو دھمکی نہیں دی، بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، ترجمان
کتابوں کی فراہمی
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کو کچھ کتابیں بھی فراہم کی جائیں۔ عدالت نے کہاکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ ڈاکٹرز کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیں تو فراہم کردی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے انتہائی مطلوب 2 ٹارگٹ کلرز ہلاک
معاملے کا زیرالتواء رہنا
عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کیخلاف سماعت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ ہم اس پر مناسب آرڈر کریں گے، رپورٹ میں دیگر سفارشات کو خود دیکھیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک معاملہ زیرالتواء رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بچے کی پیدائش کے بعد خاتون کے جسم کے دائیں حصے نے کام چھوڑ دیا، ایم آر آئی میں ایسا انکشاف کہ زندگی ہی بدل گئی
صحت کی اہمیت
چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے صحت کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کررہے ہیں، بانی کی صحت کے معاملے پر بھی مناسب فیصلہ دیں گے، صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے، صحت کے معاملے پر حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔
حکومت کی ذمہ داریاں
اٹارنی جنرل نے کہاکہ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ بانی کی بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے، ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں، آج حکومت اچھے موڈ میں ہے۔








