بنگلادیش انتخابات: شفیق الرحمان اور طارق رحمان نے کاسٹ کردیا
بنگلادیش میں عام انتخابات کا آغاز
ڈھاکا (ڈیلی پاکستان آن لائن) بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے میدان سج گیا، ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔
سیاسی رہنما ووٹ ڈالنے میں مصروف
روزنامہ جنگ کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان، بنگلادیش نیشنل پارٹی کے سربراہ طارق رحمان، بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس اور جین زی پر مشتمل جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنوینر ناہید الاسلام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرلیا۔
جماعت اسلامی کی اہمیت
امیرِ جماعت اسلامی شفیق الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلادیش کے لیے یہ انتخابات ایک اہم موڑ ہیں، لوگوں کے مطالبات اور خواہشات بدل رہی ہیں، ہم بھی تبدیلی کے حق دار ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ووٹنگ آزادانہ اور منصفانہ ہوئی تو ہم نتائج قبول کریں گے۔ دوسروں کو بھی عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنا چاہیے۔
بی این پی کی ترجیحات
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ بی این پی طارق رحمان نے کہا کہ امن عامہ میری پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کو محفوظ سمجھ سکیں۔ ملک کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے، ہمیں جیت کی امید ہے۔
نوجوانوں کی شرکت
ادھر جین زی پر مشتمل جماعت این سی پی کے کنوینر ناہید الاسلام نے کہا کہ میں نے زندگی میں پہلی بار بغیر کسی پریشانی کے اپنا ووٹ کاسٹ کیا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ سب اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں۔
نئے بنگلادیش کا آغاز
بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج سے ہر سطح پر ہمیں نیا بنگلادیش بنانے کا موقع ملے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر کوئی ریفرنڈم میں بھی ووٹ کاسٹ کرنا یقینی بنائے، پارلیمانی نشستوں کے ساتھ ساتھ ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ بھی انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئیں، آج کے دن کو ایک سالگرہ کے طور پر منائیں، ایک طویل جشن، آج کا دن آزادی اور نئے خواب کا آغاز ہے۔ آج ایک نئے بنگلا دیش کی سالگرہ ہے، ہم اس سالگرہ کو دن بھر منائیں گے۔
ووٹنگ کا عمل
بنگلادیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد یونس نے ڈھاکا کے گلشن ماڈل سکول کے پولنگ سٹیشن میں ووٹ ڈالا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ووٹنگ کا عمل پُرامن اور منظم انداز میں جاری ہے، اب تک کسی قسم کی بدانتظامی یا رکاوٹ کی اطلاع نہیں ملی۔ آج ہونے والے انتخابات میں 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جن میں 44 فیصد تعداد نوجوانوں کی ہے، انتخابات میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہو گا۔
حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازم ہے।








