پاکستان سب سے پہلے دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ

ملک کی موجودہ صورت حال

ملک اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے، جہاں سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر قومی بقا کا سوال سب سے مقدم ہو چکا ہے۔ دہشت گردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، یہ کوئی وقتی یا مقامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک منظم، منہج بند اور بیرونی سرپرستی میں چلنے والی مہم ہے، جس کا ہدف پاکستان کی ریاست، اس کی معیشت، اس کا امن اور اس کا مستقبل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئی نمبر پلیٹ نہ ہونے پر چالان کاٹنا بھی سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج

قومی یکجہتی کی ضرورت

ایسے میں سوال یہ نہیں کہ کون حکومت میں ہے اور کون اپوزیشن میں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم بطور قوم ایک پیچ پر کھڑے ہیں یا نہیں؟ سیکیورٹی ذرائع کی حالیہ بریفنگ نے کئی اہم پہلووں کو بے نقاب کیا ہے۔ واضح کیا گیا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے براہ راست اور بالواسطہ بیرونی ہاتھ کارفرما ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، فی کلو 500 روپے تک بکنے لگے

دہشت گردی کی بنیاد اور اس کے اثرات

بھارت اور افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اسلام آباد کا حالیہ سانحہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ خودکش حملہ آور اگرچہ پاکستانی تھا، مگر اس کی تربیت افغانستان میں ہوئی۔ یہ ایک سنگین حقیقت ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو ورغلایا جا رہا ہے، تربیت دی جا رہی ہے اور پھر پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ذہنی صلاحیت کے ٹیسٹ میں سب سے بلند ترین سکور حاصل کرلیا

قومی بیانیہ کی تشکیل

یہ بھی انکشاف ہوا کہ دہشت گردی کے خلاف مضبوط قومی بیانیہ تشکیل نہ پانے کے پیچھے بھی بیرونی عناصر کا کردار ہے۔ فنڈنگ کے ذریعے ایسے ماحول کو فروغ دیا جاتا ہے جہاں دہشت گردی کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف کمزور پڑ جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پوپ فرانسس کا انتقال، وزیر اعلیٰ مریم نواز کا دنیا بھر کی کرسچین کمیونٹی سے تعزیت کا اظہار

حکومتی اقدامات اور چالیں

حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بلوچستان میں خارجیوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ صرف سال 2025 میں 75 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا ایم پی اے ملک احمد سعید کے والد کے انتقال پر اظہار افسوس

عالمی برادری کا کردار

سی این این کی رپورٹ نے بھی اس امر کی نشاندہی کی کہ طالبان بھاری مقدار میں امریکی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ اسلحہ کس طرح دہشت گرد گروہوں تک پہنچ رہا ہے، اس پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر ایک اور کمسن بچہ جاں بحق

سیاسی جماعتوں کی ذمہ داریاں

سیاست سب سیاسی جماعتوں کا حق ہے، مگر دہشت گردی کے خلاف سب کو ایک پیچ پر ہونا ہوگا۔ اگر کوئی سیاسی جماعت اپنی کارکردگی پر سیاست کرے تو یہ خوش آئند ہے، مگر اگر سیاست کا محور اینٹی اسٹیبلشمنٹ یا ریاست مخالف بیانیہ بن جائے تو اس کا نقصان پورے ملک کو ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مانسہرہ میں رہائشی پلازہ سے 3 نوجوانوں کی لاشیں برآمد

گڈ گورننس اور عوامی بھلائی

دہشت گردی صرف گولی اور بارود کا نام نہیں، یہ ایک نظریاتی جنگ بھی ہے۔ اس لیے گڈ گورننس، شفافیت، اور احساسِ محرومی کا خاتمہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بنیادی ستون ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے کراچی کو تباہ کیا، اجرک کی آڑ میں لوٹ مار کا دھندا شروع کردیا : فاروق ستار

عملداری کی اہمیت

ریاست کو اپنی عملداری ہر سطح پر یقینی بنانا ہوگا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز پنجاب کی تقدیر بدلنے جا رہی ہیں: عظمیٰ بخاری

قانون کی اہمیت

آخر میں سوال پھر وہی ہے: کیا ہم بطور قوم دہشت گردی کے خلاف ایک پیچ پر کھڑے ہیں؟ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمارا بیانیہ صرف اور صرف پاکستان ہے۔

ملکی یکجہتی کی ضرورت

دہشت گردی کی جنگ ہم سب نے مل کر لڑنی ہے۔ اگر ہم نے سیاسی تقسیم کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد کو ترجیح دی، تو کوئی بیرونی ہاتھ ہمیں کمزور نہیں کر سکتا۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...