پاکستان سب سے پہلے دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ
ملک کی موجودہ صورت حال
ملک اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے، جہاں سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر قومی بقا کا سوال سب سے مقدم ہو چکا ہے۔ دہشت گردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، یہ کوئی وقتی یا مقامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک منظم، منہج بند اور بیرونی سرپرستی میں چلنے والی مہم ہے، جس کا ہدف پاکستان کی ریاست، اس کی معیشت، اس کا امن اور اس کا مستقبل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمگیر نظام ناکام ہو چکا، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل طاقتور ممالک کے دباؤ کے باعث مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں : حافط نعیم الرحمان
قومی یکجہتی کی ضرورت
ایسے میں سوال یہ نہیں کہ کون حکومت میں ہے اور کون اپوزیشن میں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم بطور قوم ایک پیچ پر کھڑے ہیں یا نہیں؟ سیکیورٹی ذرائع کی حالیہ بریفنگ نے کئی اہم پہلووں کو بے نقاب کیا ہے۔ واضح کیا گیا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے براہ راست اور بالواسطہ بیرونی ہاتھ کارفرما ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں؟ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی میں نیا تنازع
دہشت گردی کی بنیاد اور اس کے اثرات
بھارت اور افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اسلام آباد کا حالیہ سانحہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ خودکش حملہ آور اگرچہ پاکستانی تھا، مگر اس کی تربیت افغانستان میں ہوئی۔ یہ ایک سنگین حقیقت ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو ورغلایا جا رہا ہے، تربیت دی جا رہی ہے اور پھر پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے خلاف مہم جوئی سے انکار پر مودی سرکار نے بھارتی جرنیل کی چھٹی کردی
قومی بیانیہ کی تشکیل
یہ بھی انکشاف ہوا کہ دہشت گردی کے خلاف مضبوط قومی بیانیہ تشکیل نہ پانے کے پیچھے بھی بیرونی عناصر کا کردار ہے۔ فنڈنگ کے ذریعے ایسے ماحول کو فروغ دیا جاتا ہے جہاں دہشت گردی کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف کمزور پڑ جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا؟
حکومتی اقدامات اور چالیں
حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بلوچستان میں خارجیوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ صرف سال 2025 میں 75 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ای ویزا پر پاکستان آیا روسی طالبعلم اسلام آباد سے پشاور جاتے ہوئے لاپتا، عدالت نے حکومت سے جواب طلب کر لیا
عالمی برادری کا کردار
سی این این کی رپورٹ نے بھی اس امر کی نشاندہی کی کہ طالبان بھاری مقدار میں امریکی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ اسلحہ کس طرح دہشت گرد گروہوں تک پہنچ رہا ہے، اس پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کسانوں کو مڈل مین کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے نتائج بہت سنگین ہوں گے‘ لاہور ہائیکورٹ
سیاسی جماعتوں کی ذمہ داریاں
سیاست سب سیاسی جماعتوں کا حق ہے، مگر دہشت گردی کے خلاف سب کو ایک پیچ پر ہونا ہوگا۔ اگر کوئی سیاسی جماعت اپنی کارکردگی پر سیاست کرے تو یہ خوش آئند ہے، مگر اگر سیاست کا محور اینٹی اسٹیبلشمنٹ یا ریاست مخالف بیانیہ بن جائے تو اس کا نقصان پورے ملک کو ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے نوجوانوں پر اعتماد کبھی ختم نہیں ہوگا، انکی کامیابی سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز
گڈ گورننس اور عوامی بھلائی
دہشت گردی صرف گولی اور بارود کا نام نہیں، یہ ایک نظریاتی جنگ بھی ہے۔ اس لیے گڈ گورننس، شفافیت، اور احساسِ محرومی کا خاتمہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بنیادی ستون ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہم شریف ہوں گے لیکن اتنے لاعلم نہیں کہ یہ سمجھ نہ سکے کہ ہمارے حق پر ڈاکہ کس نے ڈالا اور یہ غیر آئینی ترامیم کون لارہاہے، محمود خان اچکزئی
عملداری کی اہمیت
ریاست کو اپنی عملداری ہر سطح پر یقینی بنانا ہوگا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شارجہ میں مقیم بھارتی شہری نے 25 ملین درہم کی لاٹری جیت لی
قانون کی اہمیت
آخر میں سوال پھر وہی ہے: کیا ہم بطور قوم دہشت گردی کے خلاف ایک پیچ پر کھڑے ہیں؟ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمارا بیانیہ صرف اور صرف پاکستان ہے۔
ملکی یکجہتی کی ضرورت
دہشت گردی کی جنگ ہم سب نے مل کر لڑنی ہے۔ اگر ہم نے سیاسی تقسیم کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد کو ترجیح دی، تو کوئی بیرونی ہاتھ ہمیں کمزور نہیں کر سکتا۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔








