عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے: سپریم کورٹ میں پیش رپورٹ میں انکشاف
خلاصہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اڈیالا جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کی سہولیات کی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ جیل خانہ جات پنجاب میں تقرر و تبادلے
طبی معائنہ کا مطالبہ
جیونیوز کے مطابق رپورٹ میں عمران خان نے مطالبہ کیاکہ ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے معائنہ کرایا جائے۔ ان کا طبی معائنہ کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے کتابیں فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی مزدور دوست پالیسی: لاہور، قصور میں صنعتی کارکنوں کو فلیٹوں کی الاٹمنٹ
سکیورٹی اور نگرانی کا نظام
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے اپنی سکیورٹی کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں ظاہر کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے زیرِ استعمال کمپاؤنڈ میں تقریباً 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، اگرچہ ایک کیمرے کی کوریج غسل خانے کے حصے تک ہے، لیکن کمرے کے اندر کوئی کیمرہ موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، شہری کو حبس بے جا میں رکھ کر تشدد اور بھتہ وصول کرنے والے 4 ملزمان گرفتار، لوٹی گئی 11 لاکھ کی رقم بھی برآمد
روزمرہ کا معمول
رپورٹ کے مطابق عمران خان تقریباً 9:45 پر ناشتہ کرتے ہیں، 11:30 بجے ایک گھنٹے تک قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور پھر جسمانی ورزش کرتے ہیں۔ دوپہر 1:15 پر غسل کے بعد انہیں چہل قدمی کے شیڈ تک رسائی دی جاتی ہے۔ دوپہر کا کھانا تقریباً 3:30 سے 4:00 بجے کے درمیان ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 20 ماہ کے دوران صدر مملکت اور وزیراعظم کے غیرملکی دوروں کی تفصیلات منظرعام پر آگئیں
خوراک اور صحت
درخواست گزار نے بیان کیا کہ صبح ناشتے میں ایک کپ کافی، دلیہ، اور چند کھجوریں شامل ہوتی ہیں۔ دوپہر کا کھانا ہفتہ وار منصوبہ بندی کے تحت منتخب کیا جاتا ہے، جس کے اخراجات عمران خان کا خاندان برداشت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا امریکی بحری جہازوں کو پاناما اور سوئز نہروں سے مفت گزارنے کا مطالبہ، ایک جہاز پر کتنا ٹول لیا جاتا ہے؟ جان کر ہوش اڑ جائیں۔
علاج اور طبی حالت
عمران خان نے مزید بتایا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔ انہوں نے پمز کے ڈاکٹرز کو بار بار شکایت کی، لیکن کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ بعدازاں، ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا بن گیا، جس نے مزید نقصان پہنچایا۔
خلاصہ
رپورٹ کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی کا علاج کیا گیا، لیکن اس کے باوجود وہ صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی۔








