بیگم رعنا لیاقت علی خان کو حقوق نسواں کی اولین علم بردار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائیگا: محفوظ النبی خان
بیگم رعنا لیاقت علی خان: حقوق نسواں کی علم بردار
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بیگم رعنا لیاقت علی خان کو پاکستان کی تاریخ میں حقوق نسواں کی اولین علم بردار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے بیش بہا خدمات سر انجام دیں اور ہوم اکنامکس کو بطور شعبہ تعلیمی اداروں میں متعارف کروایا۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال نے فیس بک، ایکس، یوٹیوب، انسٹاگرام سمیت 26 ایپلی کیشنز اور پلیٹ فارمز کو بلاک کردیا
تعلیم اور گھریلو صنعت کی ترقی
ان تاثرات کا اظہار قائد ملت لیاقت علی خان میموریل کمیٹی کے صدر محفوظ النبی خان نے بیگم رعنا لیاقت علی خان کی 121ویں سالگرہ کے موقع پر ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے کے علاوہ گھریلو صنعت کو بھی روشناس کروایا۔ اگر ملک میں کاٹج انڈسٹری کو ترقی دی جاتی تو پاکستان بھی جاپان کی طرح ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو سکتا تھا۔ اسی طرح پاکستان وومن نیشنل گارڈ اور وومن نیول ریزرو جیسی تنظیموں کے ذریعے خواتین کو عسکری و پیشہ ورانہ تربیت بھی دلوائی جس کی مثال اس سے قبل تیسری دنیا میں نہیں ملتی۔
باہمت خاتون اور عالمی شناخت
بیگم رعنا لیاقت علی خان باہمت انسان تھیں جنہوں نے اپنے شوہر کی شہادت کے بعد انتہائی نامساعد حالات میں حکومت کے اعزازات کے بجائے ملازمت کو ترجیح دی اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون سفیر کے طور پر اپنی خدا داد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اپوا بھی مسلم دنیا کی پہلی بڑی نسواں تنظیم تھی جو رعنا لیاقت کا کارنامہ ہے۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کو اقوام متحدہ نے عالم اسلام کی پہلی خاتون ہیومن رائٹس ڈفینڈر کا اعلیٰ ترین عالمی ایوارڈ پیش کیا۔








