تحریک فساد کی ایک شرپسند خاتون کے لاہور سے متعلق ریمارکس قابل مذمت ہیں: عظمیٰ بخاری
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب کی شدید مذمت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے تحریک فساد سے وابستہ ایک خاتون کے لاہور سے متعلق ریمارکس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ایک پرامن، زندہ دل اور ثقافتی شہر ہے، جس کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: حلیم عادل شیخ اور انکے بھائی جعل سازی کے مقدمے میں بری
لاہور کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی
لاہور میں 4 سال جعلی حکومت کرنے والے اور زمان پارک کے باہر ناچ گانے کرنے والوں کو آج اپنی سیاست پر شرم آنی چاہیے۔ جو عناصر ماضی میں لبرٹی چوک اور مینارِ پاکستان کو سیاسی سرکس میں تبدیل کرتے رہے، وہ آج اسی لاہور پر تنقید کرکے عوام کی توہین کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روس ایران کو امریکی بحری بیڑوں اور فضائی نقل و حرکت کی جاسوسی کے لیے اہم سیٹلائٹ ڈیٹا فراہم کر رہا ہے، الجزیرہ کی رپورٹ میں دعویٰ
سیاست میں انتشار کی مستردگی
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ان کے اپنے قائد کی فیملی اہل و عیال کے ساتھ بسنت مناتی رہی تو کیا اس پر بھی کبھی شرمندگی کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب نے مزید کہا کہ لاہور اور پنجاب کے عوام نے انتشار اور فساد کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سرحد پر نشہ دے کر بچہ سمگل کرنے کی کوشش پر خاتون گرفتار
امن اور خوشی کی ترجیحات
لاہور کے شہریوں نے انتشار کی کال میں شامل ہونے کے بجائے امن، خوشی اور ثقافتی رنگوں کے ساتھ بسنت منانے کو ترجیح دی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام منفی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔ پنجاب کی ترقی سے حسد کرنے کے بجائے مخالفین اپنی 12 سالہ حکومت کی کارکردگی قوم کے سامنے رکھیں۔
ناکام تحریکیں اور ترقی کی راہ
انہوں نے کہا کہ تحریک فساد کے تمام ٹرمپ کارڈ، جعلی تحریکیں اور "انقلاب فرام ہوم" مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور پاکستان کے عوام بانی پی ٹی آئی کی ملک دشمن سازشوں کو پہچان چکے ہیں۔ پاکستان تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ملک مزید کسی فتنے، انتشار یا فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا۔








