انتہاپسندی کی روک تھام کا عالمی دن، محکمہ داخلہ پنجاب کی خصوصی تقریب، سماجی یکجہتی کے فروغ پر زور
ہماری مشترکہ جنگ
دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ ہماری مشترکہ جنگ ہے: صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی الیکشن: بل گیٹس کا کملا ہیرس کی مہم کیلئے 50 ملین ڈالر کا عطیہ
پیغامِ پاکستان
"پیغامِ پاکستان" ہمارا مشترکہ اعلامیہ اور لائحہ عمل ہے جسے نصاب کا حصہ بنایا جائے گا: سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی
یہ بھی پڑھیں: سی ایم نسپکشن ٹیم کے ہسپتالوں کے طوفانی دورے، بد انتظامی پرایم ایس جہلم کی چھٹی، سوہاوہ کے ایم ایس کو وارننگ
تقریب کا مقصد
پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم کے اشتراک سے منعقدہ تقریب کے دوران انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ قومی عزم، سماجی یکجہتی اور ہم آہنگی کے فروغ پر زور دیا گیا.
یہ بھی پڑھیں: فلم انڈسٹری کے معروف فنکاروں کا سرکاری اعزازات واپس کرنے کا اعلان
شرکت کنندگان
پاکستان بھر سے پالیسی سازوں، سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام، ماہرینِ تعلیم، علماء کرام اور سول سوسائٹی کی بھرپور شرکت.
یہ بھی پڑھیں: یوسف کا والد دل کا مریض، والدہ کو برین ٹیومر ہے، ڈور پھرنے سے جاں بحق، گھر کا اکیلا سہارا یوسف اپنے پیچھے المناک کہانی چھوڑ گیا
تقریب کی تفصیلات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) محکمہ داخلہ پنجاب نے عالمی یومِ انسدادِ پرتشدد انتہا پسندی کی مناسبت سے مقامی ہوٹل میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا جس میں صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی اور پاکستان بھر سے پالیسی سازوں، سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام، ماہرینِ تعلیم، علماء کرام اور سول سوسائٹی نے تقریب میں بھرپور انداز میں شرکت کی۔ تقریب کے دوران انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ قومی عزم، سماجی یکجہتی اور ہم آہنگی کے فروغ پر زور دیا گیا۔ خصوصی تقریب پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: روزمرہ معاملات زندگی کی انجام دہی میں دوسروں کی مرضی پر مبنی رویہ ہر قیمت پر ترک کر دیں، آپ کو اس صورتحال سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے
وزیر تعلیم کا خطاب
تقریب سے خطاب میں وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا کہ شدت پسندی کے خاتمے اور رواداری کے فروغ کا پیغام سکولوں کی اسمبلی میں باقاعدگی سے دیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ ہماری مشترکہ جنگ ہے اور قیام امن کیلئے سب کو متحد اور یکسو ہو کر عملی اقدامات اٹھانے ہونگے۔ حکومتِ پنجاب علماء کرام اور امام مسجد صاحبان کو آن بورڈ لے رہی ہے۔ معاشرے کے تمام طبقات خاص کر نوجوانوں کی شمولیت سے ہم آہنگ معاشرے کا قیام ہوگا۔ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے تحت 12 فروری کو عالمی یومِ انسدادِ پرتشدد انتہا پسندی قرار دیا گیا جس مناسبت سے آج ہم سب اکٹھے ہوئے ہیں۔ تمام طبقات کو ادراک کرنا ہے کہ پاکستان کی بقا اور فلاح ہر بات سے زیادہ اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے دفاتر کے 50فیصدعملے کو آن لائن کام پر منتقل کرنے کا حکم
سیکرٹری داخلہ کا پیغام
سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ نوجوان طلباء "پیغام پاکستان" کو پڑھیں اور مثبت سوچ کی ترویج میں کردار ادا کریں۔ پنجاب کی تاریخ میں عالمی یومِ انسدادِ پرتشدد انتہا پسندی پہلی بار منایا جا رہا ہے اور عالمی دن کا مقصد انتہا پسندی کے خلاف آگاہی اور عالمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ حکومت پنجاب نظر ثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے اور پنجاب سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم قومی پالیسی پر عملدرآمد کر رہا ہے۔ "پیغامِ پاکستان" ہمارا مشترکہ اعلامیہ اور لائحہ عمل ہے اور اسے انٹر کی سطح پر نصاب کا حصہ بنایا جائے گا۔ تقریب کا مقصد قیام امن کیلئے بین الاداراتی تعاون، شمولیت اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان میں امن، رواداری اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینے اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے قوانین کی پاسداری لازم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اہم اجلاس شروع، وزیر خزانہ بجٹ 26-2025 پیش کر رہے ہیں
شرکاء کے خیالات
تقریب کے شرکاء نے کہا کہ تشدد، ناانصافی اور انتہا پسندی کی روک تھام کیلئے اپنے گھر سے آغاز کریں۔ ماہرین نے نوجوانوں کو امن کے سفیر اور مثبت تبدیلی کا محرک قرار دیا۔
ماہرین کی شرکت
سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم کے ڈی سی او ڈاکٹر احمد خاور شہزاد نے ماسٹر آف سیریمنی کے فرائض سرانجام دیئے۔ تقریب میں چیف کوارڈینیشن آفیسر غلام صغیر شاہد، ڈی آئی جی کامران عادل، دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ، ڈاکٹر طاہر رضا بخاری، ڈاکٹر تہمینہ اسلم رانجھا، ڈاکٹر ضیاء اللہ شاہ بخاری، علامہ توقیر عباس، منصور اعظم قاضی، ڈاکٹر صغریٰ صدف، ڈاکٹر میر آصف اکبر قادری سمیت مختلف شعبہ جات سے نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔








