دلکش لمحہ تھا، ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی، کچھ دو تین اجنبی چہرے بھی اِدھر اُدھر ملنے ملانے میں مصروف پائے گئے، میں ذرا کھلے ڈھلے موڈ میں تھا۔
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 56
خوبصورت ماحول
سہانا سماں تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ کچھ دو تین اجنبی چہرے بھی اِدھر اُدھر ملنے ملانے میں مصروف پائے گئے۔ وہ دراصل جھنگ روڈ پر واقع ہائی سکول کے ٹیچر تھے، جو ایک گوہر نایاب کی تلاش میں یہاں پہنچے تھے۔ لڑکوں نے اُن کا تعارف ”پڑھاکو“ قسم کے لڑکوں سے کروایا۔ لیکن اُن کی تسلی نہ ہوئی۔ آخر ایک طالب علم نے اُن کو مشورہ دیا کہ آپ کو جو نسخہ کیمیاء درکار ہے آئیں دیکھ لیں۔ میرے پاس آئے میں ذرا کُھلّے ڈُھلّے موڈ میں تھا۔ کُھل کِھلا کر باتیں ہوئیں۔ اُن کو تو جیسے میری باتیں ایک دم بھا گئیں۔ فوراً مجھے بطور سائنس ٹیچر لے جانے کے لیے کمر بستہ ہوگئے۔ میں نے کچھ سوچنے سمجھنے کا وقفہ چاہا لیکن وہ مصر تھے کہ وہ مجھے ساتھ لے کر ہی جائیں گے۔ چنانچہ وہی ہوا۔ صبح اٹھے ناشتہ کیا اور کالج اور ہوسٹل کو الوداعی سلام کیا اور اُن کے ساتھ بس میں سوار ہو کر جھنگ روڈ پر رواں دواں ہوگئے۔
دیہاتی سکول کے حالات
دیہاتی سکول…… مناسب تعداد میں کمرے، تفریحی سرگرمیوں کا فقدان، واجبی سی دو فزکس اور کیمسٹری کی لیبارٹریاں …… ایک کھیل کا میدان اور سب سے پیاری چیز فتح محمد ہیڈ ماسٹر بی اے ہنس مُکھ، سادہ طبیعت اور اچھے منتظم…… اُن کے دفتر میں، میں نے رپورٹ کی تو ایسے پیش آئے جیسے میں نہیں بلکہ وہ میرے سامنے درخواست گزار ہوئے ہوں۔ کہنے لگے مجھے تو انتظامیہ نے ویسے ہی یہاں پیشانئی سکول پہ چپکایا ہوا ہے۔ یہاں ضرورت ہے آپ جیسے نئے خون کی…… طلسماتی جوش و ولولہ کی…… با ہمت راہبروں کی، بلندیوں کو سر کرنے والوں کی اور منزلوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آگے سے آگے بڑھنے والوں کی۔ اِس پہ درپے خُوشامدی جملوں کی بوچھاڑ سے جیسے میرا گلہ بالکل خشک ہوگیا۔ میں نے بولنے کی کوشش ضرور کی تاکہ اُن کو اس کارِ خیر سے رُوکوں لیکن قوّت گویائی جیسے ریلوے ٹریک پر فیل شدہ پاکستانی ریلوے انجن کی طرح رک گئی ہو۔ اب اچھّا منتظم ہی کام آیا انہوں نے گھنٹی بجائی…… سکول کا چپڑاسی حاضر ہوا اور اُس کو پانی لانے کے لیے کہا۔ اُس کی واپسی پر خود گلاس لے کر مجھے پیش کیا۔ پانی کے پیتے ہی سب کل پرزے بحال ہوگئے اور آنکھوں کی چمک لوٹ آئی۔ میں نے بھی کچھ عاجزانہ و منکسرانہ طرز تکلّم اپنانے کے لیے زبان کھولی تو وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے۔ آئیے میں یہ سکول آپ کی سپردداری میں دیتا ہوں سارے سکول کو چل پھر کر دکھایا۔ اساتذہ کرام سے بھی ملاقات کروائی۔
پہلا سبق
چوہدری فتح محمد ہیڈ ماسٹر نے کہا کہ آپ کا پہلا دن ہے صرف ایک پیریڈ ریاضی کا دسویں کلاس کا لیں۔ ”پہلا دن دسویں کلاس کا ریاضی کا پیریڈ“ پیچھے بیان کردہ خوشامدی جملوں کے بوجھ تلے دَبا میں کلاس روم میں داخل ہوا تو ساری کلاس "Stand up" اور پھر مکمل خاموشی…… جس کو انگریزی زبان میں "Pindrop Silence" کہتے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ پیچھے تو آپ اپنے کالج کے متعلق دیہاتی کالج کی رٹ لگائے ہوئے تھے اور یہاں اُردو کا مطلب سمجھانے کے لیے انگریزی زبان کا سہارا لے رہے ہیں۔ تو جناب یہ سب کچھ فتح محمد صاحب ہیڈ ماسٹر سکول ہذا کا کیا دھرا ہے کہ انہوں نے اتنی چاپلوسی کردی کہ اب علم و عرفان کے دھارے…… روکے سے بھی نہیں رُکتے تھے۔ اگر یہی حال رہا مجھے تو ڈر ہے کہیں بے پڑھی "French" کے بھی چشمے نہ پھُوٹ پڑیں۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ کلاس کی مکمل خاموشی کو توڑتے ہوئے میں یوں گویا ہوا۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








