ترکیہ اور پاکستان کے درمیان گہرے ثقافتی ،سماجی رشتوں پر سیمینار، مجیب الرحمان شامی نے صدارت کی
سیمیینار کا انعقاد
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترکیہ اور پاکستان کے درمیان گہرے ثقافتی اور سماجی رشتوں پر سیمینار کا انعقاد ہوا ۔
یہ بھی پڑھیں: دنانیر مبین کی نئی ویڈیو؛ سوشل میڈیا صارفین برہم
تفصیلات
صوبائی دارالحکومت ایوان اقبال لاہور میں ایک فکر انگیز سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان تھا ’’ترکیہ–پاکستان تعلقات کے ثقافتی اور سماجی پہلو‘‘۔ سیمینار میں سفارت کاروں، سکالرز، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی اور دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ اور مضبوط رشتوں کو سراہا اور مزید مضبوط کرنے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایکواڈور میں نائٹ کلب میں فائرنگ سے 8 افراد ہلاک
اہتمام
سیمینار کا اہتمام ’’دوست‘‘ پاکستان–ترکیہ دوستی فورم نے یونس امرے انسٹی ٹیوٹ اور ایوان اقبال لاہور کے اشتراک سے کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: ڈرونز کے ذریعے منشیات سمگل کرنے والا گروہ پکڑا گیا
مہمانِ خصوصی
مہمانِ خصوصی جمہوریہ ترکیہ کے لاہور میں قونصل جنرل مہمت ایمن شمشک تھے۔ انہوں نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کی تاریخی دوستی، مشترکہ اقدار اور بڑھتی ہوئی ثقافتی تعاون پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی روابط، تعلیمی اشتراک اور ثقافتی تبادلہ دونوں ممالک کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کی بنیاد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نیوی آرڈیننس میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش
صدارت
سیمینار کی صدارت معروف صحافی مجیب الرحمان شامی نے کی۔ انہوں نے دونوں قوموں کے درمیان باہمی احترام اور جذباتی وابستگی کی گہرائی پر زور دیا اور میڈیا، دانشورانہ مکالمے اور ثقافتی اقدامات کو ان رشتوں کو مزید مستحکم کرنے میں کلیدی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: شیخوپورہ، دیرینہ دشمنی پر فائرنگ سے 3افراد جاں بحق، ایک زخمی
پروفیسر کا کلام
پنجاب یونیورسٹی کے فیکلٹی آف اورینٹل لرننگ کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے تاریخی بھائی چارے، ثقافتی مماثلتیں، مشترکہ ورثے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہری محبت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سیمینار میں پاکستان–ترکیہ دوستی پر اپنا کلام بھی پیش کیا جسے حاضرین نے خوب سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کل طلب
ممتاز مقررین
سیمینار میں ممتاز مقررین نے علمی مقالے پیش کیے جن میں پروفیسر ڈاکٹر حلیل توکر (ترکی کلچرل سینٹر پاکستان)، پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید، ڈاکٹر فاروق عادل اور ڈاکٹر صدف نقوی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: راجستھان میں اونٹ گاڑی کی چھت توڑ کر اندر پھنس گیا
موضوعات پر گفتگو
مقررین نے دوطرفہ تعلقات کے مختلف ثقافتی، سماجی اور تاریخی پہلوؤں پر گفتگو کی، ادبی تبادلوں، تعلیمی تعاون اور مشترکہ تہذیبی اقدار پر زور دیا۔
اختتام
سیمینار کا اختتام دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون، ثقافتی سفارت کاری اور دانشورانہ روابط کو مزید بڑھانے کے عزم کے ساتھ ہوا۔ حاضرین نے سیمینار کو کامیاب، معنی خیز اور سماجی پل قرار دیا جو پاکستان اور ترکیہ کے بھائی چارے کی عکاسی کرتا ہے۔








