نیپرا اور حکومتی کی سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
چیلنج کی تفصیلات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سولر نیٹ میٹرنگ کی نیپرا اور حکومت کی پالیسی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 18 سال کی تاخیر کے بعد سیف سٹی پراجیکٹ پر کام شروع
عدالت کی کاروائی
نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے مطابق عدالت نے وفاقی حکومت، نیپرا اور لیسکو سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے فوری حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کا سب سے موٹا شخص انتقال کرگیا
کیس کی سماعت
جسٹس عابد حسین چٹھہ نے کیس کی سماعت کی، درخواست میں وفاقی حکومت، نیپرا اور لیسکو سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں گلوف کا الرٹ جاری
درخواست کی بنیاد
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت نے یونٹ کے بدلے یونٹ کا وعدہ توڑ دیا، نئی پالیسی سے سولر سسٹم پر بھاری سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔ نیپرا کا نیا قانون جائیداد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
امتیازی سلوک کا الزام
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بجلی مہنگی خرید کر سستی فروخت کرنے کا فارمولا امتیازی سلوک ہے۔ عدالت پرانی نیٹ میٹرنگ پالیسی کو برقرار رکھنے اور نئے ریگولیشنز پر عملدرآمد فوری روکنے کا حکم جاری کرے۔








