نیپرا اور حکومتی کی سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
چیلنج کی تفصیلات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سولر نیٹ میٹرنگ کی نیپرا اور حکومت کی پالیسی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سی سی ڈی کے نان اسٹاپ مبینہ مقابلے جاری، مزید 2 ملزم ہلاک، 4 فرار
عدالت کی کاروائی
نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے مطابق عدالت نے وفاقی حکومت، نیپرا اور لیسکو سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے فوری حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: ترک صدر رجب طیب اردوان کے امریکی صدر ٹرمپ، یورپی اور مشرق وسطیٰ کے رہنماؤں کے ساتھ سفارتی رابطے، خطے کی کشیدہ صورتحال پر بات چیت
کیس کی سماعت
جسٹس عابد حسین چٹھہ نے کیس کی سماعت کی، درخواست میں وفاقی حکومت، نیپرا اور لیسکو سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ترکیہ صرف اتحادی نہیں ایمان، ثقافت اور تاریخ میں جُڑے بھائی ہیں :وزیراعلیٰ مریم نواز کی ترکیہ کے سفیر عرفان نذیراوغلو سے ملاقات، اہم امور پر گفتگو
درخواست کی بنیاد
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت نے یونٹ کے بدلے یونٹ کا وعدہ توڑ دیا، نئی پالیسی سے سولر سسٹم پر بھاری سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔ نیپرا کا نیا قانون جائیداد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
امتیازی سلوک کا الزام
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بجلی مہنگی خرید کر سستی فروخت کرنے کا فارمولا امتیازی سلوک ہے۔ عدالت پرانی نیٹ میٹرنگ پالیسی کو برقرار رکھنے اور نئے ریگولیشنز پر عملدرآمد فوری روکنے کا حکم جاری کرے۔








