اسلام آباد ہائیکورٹ؛ 3 سال کی قانونی جنگ کے بعد میاں بیوی کے درمیان صلح ہو گئی
اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیملی کیس کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 سال سے جاری فیملی کیس میں میاں بیوی کے درمیان صلح کرا دی۔ اسلام آباد کے رہائشی میاں بیوی اکٹھے رہنے پر راضی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹر اسکول فٹ بال چیمپئن شپ کا شاندار آغاز، مقصد اسکول سطح پر فٹ بال کو فروغ دینا ہے: صدر ڈی ایف اے ضیاء ڈوگر
عدالتی حکم
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں عدالتی حکم نامے پر میاں بیوی نے اکٹھے رہنے کی رضا مندی کے دستخط کردیئے۔
عدالت نے خاوند کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ بیوی کو تاحیات الگ پورشن میں رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کرپٹو سٹوری میں عثمان شامی نے علی ڈار کا نام لے کر تفصیل بیان کی ہے، اسحاق ڈار کے خلاف ضرور کچھ ہونے والا ہے ورنہ ان لوگوں کا نام لے کر ٹی وی پر خبر دینے کی اجازت نہیں تھی، شہباز گل
وکلا کی شرکت
سمعیہ قمر راجہ ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا نے کیس کی پیروی کی۔
یہ بھی پڑھیں: جھیکاگلی میں لینڈ سیلائیڈنگ سے متاثرہ گھرانوں کے لیے فوری امدادی سرگرمیاں شروع
بچوں کی موجودگی
چار بچے جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان کی والدین سے کمرہ عدالت میں ملاقات کرائی گئی۔
بچوں کو روسٹرم پر بلاکر جسٹس محسن اختر کیانی نے انٹرویو کئے۔ بچوں نے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا "ماما آپ گھر آ جائیں"۔ جسٹس نے بچوں کو تحائف بھی دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز، سیمی فائنل میں پاکستان شاہینز نے سری لنکا اے کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی
ججز کے ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کا بٹوارا نہیں ہو سکتا، بچے پراپرٹی نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرد کا کام ہے کہ عورت کو منا کر رکھے۔ مردوں کا تربیتی فقدان ہے، اور ایک عورت جو اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر آتی ہے، اسے محبت اور احترام ملنا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرد کا کام ہے کہ عورت کو الگ رہائش مہیا کرے، اور یہ معاملہ میاں بیوی سے زیادہ خاندان کا مسئلہ معلوم ہوتا ہے۔ عدالت اس کیس میں تحریری آرڈر پاس کرے گی۔
سماعت کے دوران واقعہ
دوران سماعت، بچوں کے انٹرویو کی ریکارڈنگ کرنے پر ایک شخص سے موبائل فون لے لیا گیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ویڈیو ریکارڈ کرنے والے سے استفسار کیا کہ آپ نے کیوں ریکارڈنگ کی؟








