بہاول کی شدید گرمی میں سورج دل کھول کر آگ برسا رہا تھا، مخلص لوگ قسمت سے ہی ملتے ہیں، مہمانوں کی پلیٹ میں چن چن کر بوٹیاں ڈالتے تھے
مصنف کی پیش لفظ
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 438
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ کی نئی ٹیموں کے لئے پہلی بولی لگانے والے خریدار کا نام سامنے آ گیا
مہمان نوازی کی مثال
ان جیسا مہمان نواز اب ڈھونڈنے سے بھی کم ہی ملتا ہے۔ ان سے میرا تعارف سیلم نیازی نے کرایا تھا جس سے میرا تعلق بڑے بھائیوں جیسا تھا۔ سیلم نیازی ڈائریکٹر جنرل (انسپکشن) لوکل گورنمنٹ بورڈ ریٹائر ہوئے۔ کمال یار دوست، سادہ، مخلص اور درویش انسان تھے۔
یہ بھی پڑھیں: افسر کم اور غنڈے زیادہ لگتے ہیں
ایک یادگار ملاقات
شاہ عالم نیازی ایک روز میرے دفتر آئے۔ بہاول کی شدید گرمی میں سورج دل کھول کر آگ برسا رہا تھا۔ میں پسینہ میں شرابور دفتر بیٹھا اس گرمی کو برداشت کر رہا تھا۔ وہ چند منٹ بیٹھے اور یہ کہہ کر چلے گئے؛ "ایک کام یاد آگیا ہے۔ تھوڑی دیر میں واپس آتا ہوں۔" تھوڑی ہی دیر میں واپس آئے تو 2 ٹن کا سپلٹ اے سی بھی ساتھ لائے۔ کہنے لگے؛ "مجھ سے برداشت نہیں ہوا میرا چھوٹا بھائی اتنی شدید گرمی میں بغیر اے سی کے بیٹھے۔" ایسے مخلص لوگ قسمت سے ہی ملتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما شاندا نہ گلزار کے خلاف ریاست مخالف پوسٹس پر مقدمہ درج
ایک یادگار شام
ہر ماہ ایک شام میں کھانے ان کے پاس کبھی ان کی اور کبھی اپنی فرمائش پر کھاتا تھا۔ ان کی ہاں دیسی بکرے کا بہت عمدہ اور لذیذ گوشت تیار ہوتا اور سب سے مزے دار شوریدہ روٹی میری من پسند تھی۔ وہ خود مہمانوں کی پلیٹ میں چن چن کر بوٹیاں ڈالتے اور ساتھ ساتھ کہتے "میرا تیار کردہ گوشت طبیعت پر ہر گز گراں نہیں گزرے گا۔" میں گوشت خور بالکل نہیں ہوں مگر وہ زبردستی آدھ کلو گوشت تو ضرور کھلا دیتے تھے۔ یہ ان کا خلوص تھا اور ان کے یار غار سیلم نیازی سے ان کی بے پناہ محبت کا ثبوت۔
یہ بھی پڑھیں: یمن شدید مالی مشکلات کا شکار، سعودی ولی عہد نے کتنے ملین ڈالرز کی اضافی امداد کی منظوری دیدی؟ جانیے
بچوں کے لیے خوشیوں کا لمحہ
ایک بار انہوں نے عمراور احمد کو اپنے ستلج والے ڈیرے لے گئے۔ بچوں کو انہوں نے اپنی رائفلوں کی کولیکشن دکھائی اور خوب فائرنگ بھی کی۔ عامر بھی ان کی اس کولیکشن کا بڑا دلدادہ تھا کہ وہ خود بہت اچھا شکاری تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر عارفہ زہرا کی سماجی اور تعلیمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی: وزیر اعلیٰ پنجاب
دفتری عملہ کی محبت
میرا دفتری عملہ بہت مخلص اور سمجھ دار تھا۔ میری خوش قسمتی کہ مجھے ہمیشہ ہی اچھا دفتری عملہ ملا۔ آتے ہیں تمام ملازمین کا تعارف;
- خورشید صاحب: جن سے میرا رابطہ آج بھی ہے اور وہ ڈپٹی ڈائریکٹر مقامی حکومت بہاول پور ہیں۔
- محمد عمران: کمپیوٹر آپریٹر، باریش اور زندہ دل تھا۔
- دین محمد: جونئیر کلرک، ذمہ دار اور ہنس مکھ۔
- محمد نواز: ڈرائیور، میرے ساتھ فرنیک نس بہت تھی۔
- محمد افضل: نائب قاصد، بڑا تابع دار اور مخلص لڑکا تھا۔
- چچا نواز: ایکسین آفس کا نائب قاصد، سادہ انسان تھا۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








