امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طور پر کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیوں کی تیاری کر رہی ہے، خبر ایجنسی کا دعویٰ
امریکی فوج کی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیاں
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ حملے کا حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طور پر کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیوں کی تیاری کر رہی ہے۔ دو امریکی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ زیر غور منصوبہ بندی ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی محدود جھڑپوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور سنجیدہ تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف مشن کا دورہ پاکستان طے، اقتصادی جائزے کے بعد نئی قسط ملنے کا امکان
تیاری میں پیچیدگی
ان حکام کے مطابق اس بار تیاری زیادہ پیچیدہ نوعیت کی ہے اور اگر کارروائی طویل ہوئی تو امریکی فوج صرف ایرانی جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ ریاستی اور سیکیورٹی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔ امریکی حکام کو توقع ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی حملے ہوں گے، جس کے نتیجے میں دونوں طرف سے کارروائیوں کا سلسلہ کچھ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ واحد اسٹیشن ہے جہاں سے بیک وقت افغانستان اور ایران کی سرحدوں تک گاڑیاں جاتی ہیں، اسکی عمارت میں خوبصورت عجائب گھر بھی موجود ہے
سفارتی کوششیں
اس پیش رفت کے ساتھ ہی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جنیوا میں ایرانی حکام سے مذاکرات کریں گے جبکہ عمان ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ معاہدہ چاہتے ہیں لیکن اسے ممکن بنانا آسان نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مالی سال 2025: ٹی بلز سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا اخراج ڈیڑھ ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا
فوجی قوت میں اضافہ
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں فوجی قوت میں اضافہ کر دیا ہے۔ پینٹاگون ایک اضافی طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں بھیج رہا ہے جبکہ ہزاروں اضافی فوجی، لڑاکا طیارے اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ برس امریکا نے دو طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں تعینات کیے تھے اور ایرانی جوہری تنصیبات پر محدود حملہ کیا تھا جسے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کا نام دیا گیا تھا۔ اس کارروائی کے جواب میں ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر محدود حملہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک ایٹمی طاقت غیر معمولی پیمانے پر اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کر رہی ہے، امریکی عہدیدار
نظام میں ممکنہ تبدیلی
صدر ٹرمپ نے حالیہ خطاب میں ایران میں ممکنہ نظام کی تبدیلی کا عندیہ بھی دیا تاہم زمینی فوج بھیجنے کے حوالے سے وہ پہلے ہی محتاط موقف اختیار کر چکے ہیں اور موجودہ تیاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ کارروائی فضائی اور بحری طاقت پر مرکوز ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہرجانہ ادا کیا جائے، مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں دی جائیں کہ آئندہ جارحیت نہیں کی جائے گی: صدر ایران مسعود پزشکیان
ایرانی پاسداران کی وارننگ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایرانی سرزمین پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ امریکا کے مشرق وسطیٰ میں اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکی میں فوجی اڈے موجود ہیں، جس کے باعث کسی بھی تصادم کے وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایران کی مذاکرات کی پیشکش
ایران کا کہنا ہے کہ وہ پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر پابندیاں قبول کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم وہ میزائل پروگرام کو مذاکرات کا حصہ بنانے سے انکار کر چکا ہے۔








