امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طور پر کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیوں کی تیاری کر رہی ہے، خبر ایجنسی کا دعویٰ

امریکی فوج کی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیاں

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ حملے کا حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طور پر کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیوں کی تیاری کر رہی ہے۔ دو امریکی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ زیر غور منصوبہ بندی ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی محدود جھڑپوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور سنجیدہ تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر الائنس فورم ماسکو کے زیر اہتمام ’’یوم استحصال کشمیر کانفرنس‘‘ 4 اگست کو ہوگی

تیاری میں پیچیدگی

ان حکام کے مطابق اس بار تیاری زیادہ پیچیدہ نوعیت کی ہے اور اگر کارروائی طویل ہوئی تو امریکی فوج صرف ایرانی جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ ریاستی اور سیکیورٹی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔ امریکی حکام کو توقع ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی حملے ہوں گے، جس کے نتیجے میں دونوں طرف سے کارروائیوں کا سلسلہ کچھ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں سی ٹی ڈی کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ، دو دہشت گرد ہلاک

سفارتی کوششیں

اس پیش رفت کے ساتھ ہی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جنیوا میں ایرانی حکام سے مذاکرات کریں گے جبکہ عمان ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ معاہدہ چاہتے ہیں لیکن اسے ممکن بنانا آسان نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں سے مشرق وسطیٰ کے استحکام کو خطرہ ہے؛عراق

فوجی قوت میں اضافہ

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں فوجی قوت میں اضافہ کر دیا ہے۔ پینٹاگون ایک اضافی طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں بھیج رہا ہے جبکہ ہزاروں اضافی فوجی، لڑاکا طیارے اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ برس امریکا نے دو طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں تعینات کیے تھے اور ایرانی جوہری تنصیبات پر محدود حملہ کیا تھا جسے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کا نام دیا گیا تھا۔ اس کارروائی کے جواب میں ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر محدود حملہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں 6 ماہ کے دوران بینکوں کے اثاثے 11 فیصد تک بڑھ گئے

نظام میں ممکنہ تبدیلی

صدر ٹرمپ نے حالیہ خطاب میں ایران میں ممکنہ نظام کی تبدیلی کا عندیہ بھی دیا تاہم زمینی فوج بھیجنے کے حوالے سے وہ پہلے ہی محتاط موقف اختیار کر چکے ہیں اور موجودہ تیاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ کارروائی فضائی اور بحری طاقت پر مرکوز ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوجوان نسل کیلئے کھیلوں کا فروغ ناگزیر ہے، ایوب زکوڑی

ایرانی پاسداران کی وارننگ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایرانی سرزمین پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ امریکا کے مشرق وسطیٰ میں اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکی میں فوجی اڈے موجود ہیں، جس کے باعث کسی بھی تصادم کے وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایران کی مذاکرات کی پیشکش

ایران کا کہنا ہے کہ وہ پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر پابندیاں قبول کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم وہ میزائل پروگرام کو مذاکرات کا حصہ بنانے سے انکار کر چکا ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...