پیار سے ”خرگوش“ کہتے تھے، بیگم سے بہت ڈرتا تھا،کام میں ماہر تھا لیکن صبح جلدی اٹھنے میں بخیل،بہاول پور کے رنگیلا بازار اسی کے ساتھ جاتا تھا
مصنف اور کردار
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 439
محمد رمضان؛ یہ ڈرائیور تھا۔ نیک بخت اور سیدھا سادہ انسان مگر بہت اچھا ڈرائیور۔ میرے لئے وہ چاچا رمضان تھا۔ محمد عرفان میرے دفتر کا چوکیدار اور چاچا رمضان کا بیٹا۔ اچھی کرکٹ کھیلتا اور ڈی ایل جی کی ٹیم کا اہم ممبر تھا۔ اس نے دو شادیاں کیں۔ ایک ماں باپ کی پسند سے اور دوسری اپنی۔ دونوں بیویوں کا تابع دار تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے قریبی دوست عمران چودھری انتقال کر گئے
کام کی خصوصیات
رئیس محمد سیکرٹری یونین کونسل تھا لیکن میں نے اسے اس کی قابلیت کی وجہ سے اپنے دفتر جونئیر کلرک کی اسامی پر ایڈجسٹ کر رکھا تھا۔ بہت نیک بچہ تھا۔ دراوڑ کا رہنے والا عبدا لمجید نائب قاصد تھا۔ یہ بھی تابع دار تھا اور پہلے دن سے ہی میرے سارے کام مثلاً بنک سے پیسے لانا، کپڑے استری کروانا، وغیرہ اسی کے ذمے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ افتخار میموریل ٹینس چیمپئن شپ کا آج سے آغاز ہو گیا
دوست اور ساتھی
محمد شاہد؛ سب انجینئر یہ میرا دوست اور سیاحت کا ساتھی تھا۔ بھلے مانس اور فرماں بردار۔ ایک روز کسی بات پر میں اس سے سخت ناراض ہوا۔ تھوڑی دیر بعد آیا اور بولا؛ ”سر! اگر واقعی آپ ناراض ہیں تو میں ٹرانسفر کرا لیتا ہوں۔ آپ کو ناراض کرکے میں یہاں نوکری نہیں کروں گا۔“ میری ناراضگی یہ سننے سے پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ بہاول پور کے رنگیلا بازار میں اسی کے ساتھ جاتا تھا۔ کئی بار سرائیکی چوک کے قریب ہم سڑک کنارے ریڑھی سے بار بی کیو بھی کھایا کرتے تھے۔ عامر اور میں پیار سے اسے ”خرگوش“ کہتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: دھمکیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے، پی ٹی آئی ملک مضبوط نہیں دیکھنا چاہتی: عطا تارڑ
دیگر ساتھیوں کا ذکر
محمد ساجد؛ اسٹنٹ انجینئر تھا۔ شریف آدمی اور ہر شریف آدمی کی طرح اپنی بیگم سے بہت ڈرتا تھا۔ عرصہ بعد اس سے رابطہ ہوا۔ ملتان کا رہنے والا نادر خاں اسٹنٹ انجینئر رحیم یار خاں تھا۔ قابل افسر، سلجھا ہوا اور پڑھا لکھا نوجوان۔ کام میں ماہر تھا لیکن صبح جلدی اٹھنے میں بخیل۔ آج کل لاہور ہیڈ کواٹرز میں ایکسین نارتھ ہے۔ اس سے رابطہ رہتا ہے۔ محمد امین؛ یہ بھی باریش سب انجینئر تھا۔ کچھ اکھڑ کچھ بیبا۔ نمازی پر ہیز گار۔ اللہ ان سب کو خوش رکھے۔ آمین
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مرغی نے نیلے رنگ کا نایاب انڈا دیا
بہاول پور سے رخصتی
مجھے بہاول پور آئے ڈیڑھ برس بیت گیا تھا۔ میرا یہاں سے جانے کا کوئی ارادہ نہ تھا لیکن میری بیگم نے اس ڈیڑھ سال کے عرصہ میں میری ناک میں دم کر رکھا تھا کہ واپس لاہور آؤ بس بہت ہو گیا۔ جواد رفیق ملک سیکرٹری بلدیات بھائی جان قیس کے بہت اچھے دوست تھے۔ بھائی جان نے ان سے میرے لاہور تبادلے کی بات کی۔ تبادلہ تو انہوں نے کر دیا مگر لاہور کی بجائے میرا دانہ پانی گوجرانوالہ لکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے آذربائیجان روانہ
کمشنر کی مخالفت
الیکشن ختم ہو چکے تھے اور کیپٹن (ر) اسداللہ خاں دوبارہ سے کمشنر بہاول پور تعینات ہو گئے تھے۔ انہیں جب میرے تبادلے کا علم ہوا تو کہنے لگے؛ ”میں تو تمھیں نہیں جانے دوں گا۔“ میں نے جواب دیا؛ ”سر! آپ کی مہربانی آپ میرے لئے ایسے جذبات رکھتے ہیں۔ میں نے بہاول پور پوسٹنگ کو بہت enjoy کیا۔ شاید اپنی سروس کا بہترین وقت یہاں گزارا لیکن میری گھریلو مجبوریاں ہیں جس کی وجہ سے مجھے لاہور یا اس کے قریب کی پوسٹنگ سوٹ کرتی ہے۔ آپ مہربانی کریں اور مجھے جانے دیں۔” وہ بولے؛ ”نہیں ابھی تو میں تمھیں جانے نہیں دوں گا۔" یہ ان سے میری کوئی محبت نہیں بلکہ اس کی بڑی وجہ سمجھ دار افسر کو کوئی بھی باس آسانی سے جانے نہیں دیتا۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس اعجاز سواتی ریٹائرڈ ہوگئے
اجازت ملنے کا لمحہ
کچھ روز بعد ان سے پھر اجازت چاہی تو کہنے لگے؛ ”ابھی میں تمھارے آڈرز کینسل کراتا ہوں۔“ انہوں نے سیکرٹری بلدیات کو فون کرکے میرے تبادلہ منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ کمشنر فون بند کرکے کہنے لگے؛ ”لگتا ہے تیری سفارش تگڑی ہے۔“ میں نے جواب دیا؛ ”سر! سیکرٹری بلدیات میرے بھائی کے گہرے دوست ہیں اور میری مجبوری سے واقف بھی۔ مجبوری یہ ہے کہ میرے والد بوڑھے ہیں اور مجھے ان کی دیکھ بھال کے لئے ان کے قریب ہونا ضروری ہے۔ وہ مجھے مس بھی بہت کرتے ہیں۔” یوں انہوں نے بادل نخواستہ جانے کی اجازت دے دی۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








