پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 27 معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری کی شراکت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری خالد عبدالعزیز الفالح نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جن 27 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہورہے ہیں یہ سفر کا محض ایک آغاز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی ایئرلائن نارس اٹلانٹک کو پاکستان کے لیے پروازوں کی اجازت مل گئی
وزیر اعظم کی سعودی وزیر سے ملاقات
وزیراعظم سے سعودی عرب کے وزیر برائے سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی، جہاں شہباز شریف نے سعودی وزیر سرمایہ کاری اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطین میں موت کا رقص جاری، پاکستانی سفیر نے اقوام متحدہ میں حقائق بے نقاب کر دیے
سعودی عرب کی سرمایہ کاری کے شعبے
سعودی وزیر سرمایہ کاری نے پاکستان میں خاص طور پر کان کنی، زراعت، فوڈ سیکیورٹی، انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو میں اضافے کے حوالے سے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا فضائی حملہ، امریکی F-35 لڑاکا طیارے کی ایمرجنسی لینڈنگ، اس طیارے کی مالیت کتنی ہے ؟ جانیے
دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی
وزیراعظم نے سعودی وزیر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری اور معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک اہم سنگ میل ہے۔
وزیراعظم نے سعودی وزیر سرمایہ کاری کو ہلال پاکستان ایوارڈ ملنے پر مبارکباد پیش کی جو پاکستان سعودی تعلقات کو آگے بڑھانے میں ان کی شاندار خدمات کا اعتراف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر ، پاکستان نے سکاٹ لینڈ کو دھول چٹا دی
خادم حرمین شریفین کے لئے نیک خواہشات
وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: یہ بھی تاریخ بن رہی ہے، ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے سامنے 8ویں بار ریاست نے پولیس کھڑی کی ،صحافی امیر عباس
پاکستان سعودی بزنس فورم کی کامیابی
وزیراعظم نے پاکستان سعودی بزنس فورم میں ہونے والی بات چیت پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس نے نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی ہے، جس سے سعودی عرب کے عزم کو اجاگر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑہ کا گوردوارہ کرتارپور صاحب کا دورہ، 30 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔
سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی دورے
وزیراعظم نے سعودی عرب کے اپنے حالیہ دوروں اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وزیر کا یہ دورہ 6 ماہ کے اندر تیسرا اعلیٰ سطحی دورہ ہے جو دو طرفہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار کا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈین جزیرے پر “ہانگ کانگ طرز” کے منصوبے کو مقامی قبیلوں کی جانب سے “سزائے موت” قرار دیا جا رہا ہے
سرمایہ کاری سہولت کونسل کی اہمیت
وزیراعظم نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی جو پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا
نجکاری پروگرام اور ایوی ایشن کی سرمایہ کاری
وزیراعظم نے سعودی عرب کو حکومت کے نجکاری پروگرام سے آگاہ کیا اور پاکستان کے ایوی ایشن کے شعبے خصوصاً بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی۔
یہ بھی پڑھیں: ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کب فائنل ہوں گی؟ رپورٹ عدالت میں جمع
صوبوں میں سعودی عرب کی حمایت
وزیراعظم نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت بالخصوص علاقائی اور عالمی چیلنجز کے حوالے سے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سعودی عرب کے ویژن 2030 کی حمایت سمیت دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تفتان سے گاڑی ہندوستان کے سرحدی قصبے اٹاری تک آتی تھی وہاں سے اْسکو آگے بیناپول تک انڈین ریلوے کا انجن لیکر جاتا تھا
اسلامی تعاون تنظیم میں سعودی عرب کی قیادت
وزیراعظم نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں فلسطین، کشمیر اور اسلامو فوبیا جیسے معاملات پر سعودی عرب کے موقف کے حوالے سے سعودی عرب کی قیادت کی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیں: نصیرآباد میں ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑادیا گیا، جعفر ایکسپریس بال بال بچ گئی
پاکستانی تارکین وطن کا کردار
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستانی تارکین وطن دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار کررہے ہیں۔
ملاقات میں موجود شخصیات
ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور وفاقی وزیر بھی موجود تھے۔








