سابق وزیر سے ہاتھ ملانے پر مسلم طالبہ کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا
کیرالا کی ہائی کورٹ کا فیصلہ
کیرالا (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی جنوبی ریاست کیرالا کی ہائی کورٹ نے ایک ایسے شخص کے خلاف عدالتی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کردی ہے جس نے ایک مسلم لڑکی کے خلاف یہ کہتے ہوئے قانونی کارروائی کی استدعا کی تھی کہ اُس نے ایک سابق ریاستی وزیر سے مصافحہ کرکے شریعت کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف سپین کے زیر اہتمام عمران خان کی حمایت میں ریلی، ڈاکٹر شہباز گل کی خصوصی شرکت
آئینی حقوق کی اہمیت
کیرالا کی ہائی کورٹ کے جسٹس پی وی کُنہی کرشنا پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے رولنگ دی ہے کہ ملک کا آئین سب کے لیے ہے اور کوئی بھی مذہبی عقیدہ آئین کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: 60 ہزار سے زائد افراد نے بطور سول ڈیفنس رضاکار رجسٹریشن کروا لی، سموگ کے خلاف آگاہی مہم میں مدد کریں گے۔
بدنامی کا الزام
جس شخص نے لڑکی پر کیرالا کے سابق وزیرِخزانہ سے ہاتھ ملانے کا الزام عائد کیا ہے اُس نے اس حوالے سے لڑکی کو بدنام کرنے کی خاطر ہاتھ ملانے کی ویڈیو بھی وائرل کی۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات کی بھیک نہیں مانگیں گے، حکومت پہل کریگی: شبلی فراز
شریعت کے خلاف کارروائی کی استدعا
غیر مرد سے مصافحہ کرنے والی لڑکی کے خلاف عبدالنوشاد نے ہائی کورٹ سے رجوع کرکے استدعا کی تھی کہ ٹامس آئزک سے ہاتھ ملانے کے عمل کو شریعت کے منافی قرار دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: صاحبزادہ فرحان ٹی ٹوئنٹی میں جسپریت بمراہ کو 3 چھکے مارنے والے پہلے بیٹربن گئے
عدالتی پٹیشن کا مسترد ہونا
جسٹس پی وی کُنہی کرشنا نے عبدالنوشاد کی پٹیشن مسترد کردی تھی۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیو میں عبدالنوشاد نے کمنٹری کے ذریعے الزام لگایا تھا کہ غیر مرد سے ہاتھ ملانا ناجائز تعلقات کے زمرے میں آتا ہے۔
ویڈیو کی وائرل ہونے پر قانونی کارروائی
ویڈیو وائرل کرنے پر عبدالنوشاد کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کیا کیونکہ مرکز لا کالج کی طالبہ نے کہا تھا کہ ویڈیو کے وائرل ہونے سے اُس کی اور اُس کے گھر والوں کی بدنامی ہوئی ہے۔








