پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی احتجاج سے سڑکوں کی بندش پر اظہارِ برہمی، فوری کارروائی کا حکم
پشاور ہائیکورٹ کا فوری کارروائی کا حکم
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی احتجاج سے سڑکوں کی بندش پر اظہارِ برہمی کیا اور فوری کارروائی شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام سڑکیں فی الفور کھول کر رپورٹ جمع کرائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ بجٹ میں بڑی کمپنیوں کے لیے سپرٹیکس میں کمی کی تیاریاں
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پی ٹی آئی احتجاج سے سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید نے سماعت کی، چیف سیکرٹری کے پی اور آئی جی کے پی پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا اسرائیل کے فوجی ایندھن کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ
ایڈووکیٹ جنرل کا بیان
دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پارلیمنٹرین اسلام آباد سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرانے کے لیے گئے ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہماری ڈومین نہیں، احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا جھنگ کے فلڈ ریلیف کیمپ کے قریب فیلڈ ہسپتال کا دورہ
عدالت کا سخت موقف
آئی جی ذوالفقار حمید نے عدالت سے استدعا کی کہ دو دن دیئے جائیں، عدالت نے حکم دیا کہ دو دن نہیں، آج سے کارروائی شروع کریں۔ بدقسمتی ہے کہ حکمران جماعت اپنے ہی لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی بین الاقوامی مارشل آرٹس کھلاڑی ’روہنی‘ نے خودکشی کر لی
موت کے واقعات پر تشویش
وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی احتجاج کی وجہ سے 2 افراد راستے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ جاں بحق افراد ان کے لیے شاید اہم نہیں ہوں گے، کسی صورت موٹر وے بند نہیں ہونی چاہئے، پشاور میں بھی کسی جگہ پر احتجاج نہ کرنے دیا جائے۔ سٹرکوں کی بندش کی وجہ سے ہمارے بچے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن کے بجائے مذاکرات ہی مسئلے کا واحد حل ہیں، افغانستان سے مثبت پیغام موصول ہوا ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
سڑکوں کی بندش کا جائزہ
عدالت نے آئی جی سے استفسار کیا کہ کتنے دن ہوگئے جب سے یہ سٹرکیں بند ہیں۔ آئی جی نے بتایا کہ پہلے 16 پوائنٹس پر احتجاج تھا جس کو کم کر کے 10 پوائنٹس تک محدود کیا گیا۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا یہ قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ سٹرکیں بند ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ کرنے اور افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا مزید تنگ
پولیس کی کارروائیاں
آئی جی نے کہا کہ یہ موٹر وے پولیس کی حدود میں آتا ہے، جب وہ مراسلہ بھیجتے ہیں تو ہم کارروائی کرتے ہیں۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جب ایک سٹرک بند ہوتی ہے تو پورا پشاور جام ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ معطل اور پاکستان کا پانی بند کرنے کا معاملہ او آئی سی میں زیر بحث
صوبائی بدامنی کی صورت حال
عدالت عالیہ نے چیف سیکرٹری سے کہا کہ آپ نے کیا کارروائی کی ہے اب تک؟ خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں بدامنی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، بدقسمتی کی بات ہے کہ رولنگ پارٹی اپنے ہی لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی سیٹ کریں یا جرمانے لگائیں، ہم احتجاج کریں گے: ملک احمد بھچر
عدالت کا فیصلہ
عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ تمام سڑکیں فوری کھول دی جائیں اور کل رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کا معاملہ، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 2 مختلف لسٹیں جاری کر دی گئیں
میڈیا سے بات چیت
بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس نے کہا کہ عدالت نے سٹرکیں کھولنے کا حکم دیا ہے، اب سٹرکیں کھول دیں گے۔ سٹرکیں بند کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
چیلنجز کا سامنا
جب ان سے پوچھا گیا کہ سٹرکیں تو پی ٹی آئی کے ورکرز نے بند کی ہیں، اس پر آئی جی نے کہا کہ عدالت کے حکم کے مطابق جس نے بھی سٹرکیں بند کی ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ بدامنی ایک چیلنج ہے، پولیس اسے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔








