پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی احتجاج سے سڑکوں کی بندش پر اظہارِ برہمی، فوری کارروائی کا حکم

پشاور ہائیکورٹ کا فوری کارروائی کا حکم

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی احتجاج سے سڑکوں کی بندش پر اظہارِ برہمی کیا اور فوری کارروائی شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام سڑکیں فی الفور کھول کر رپورٹ جمع کرائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر اللہ کا انعام، وہ انتہائی ایماندار انسان ہیں، گورنر پنجاب سردار سلیم خان

سماعت کی تفصیلات

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پی ٹی آئی احتجاج سے سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید نے سماعت کی، چیف سیکرٹری کے پی اور آئی جی کے پی پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر داخلہ کا اسلام آباد میں 30 ستمبر تک تجاوزات کے مکمل خاتمے کا حکم

ایڈووکیٹ جنرل کا بیان

دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پارلیمنٹرین اسلام آباد سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرانے کے لیے گئے ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہماری ڈومین نہیں، احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کے تن پر خود کپڑا نہیں، عوام کو کیا ریلیف دینا ہے، فواد چودھری

عدالت کا سخت موقف

آئی جی ذوالفقار حمید نے عدالت سے استدعا کی کہ دو دن دیئے جائیں، عدالت نے حکم دیا کہ دو دن نہیں، آج سے کارروائی شروع کریں۔ بدقسمتی ہے کہ حکمران جماعت اپنے ہی لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کا مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس طلب، آئینی ترمیم پر بریفنگ متوقع

موت کے واقعات پر تشویش

وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی احتجاج کی وجہ سے 2 افراد راستے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ جاں بحق افراد ان کے لیے شاید اہم نہیں ہوں گے، کسی صورت موٹر وے بند نہیں ہونی چاہئے، پشاور میں بھی کسی جگہ پر احتجاج نہ کرنے دیا جائے۔ سٹرکوں کی بندش کی وجہ سے ہمارے بچے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: کورکمانڈر کا وزیراعلیٰ کو ملنا ایک عام سی روٹین ہے، یوتھیے اس پر فضول سا ڈسکو ڈانس مت کریں، فیاض الحسن چوہان

سڑکوں کی بندش کا جائزہ

عدالت نے آئی جی سے استفسار کیا کہ کتنے دن ہوگئے جب سے یہ سٹرکیں بند ہیں۔ آئی جی نے بتایا کہ پہلے 16 پوائنٹس پر احتجاج تھا جس کو کم کر کے 10 پوائنٹس تک محدود کیا گیا۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا یہ قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ سٹرکیں بند ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: بھارتی جارحیت کے خلاف پوری قوم متحد اور پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے، مولانا فضل الرحمان

پولیس کی کارروائیاں

آئی جی نے کہا کہ یہ موٹر وے پولیس کی حدود میں آتا ہے، جب وہ مراسلہ بھیجتے ہیں تو ہم کارروائی کرتے ہیں۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جب ایک سٹرک بند ہوتی ہے تو پورا پشاور جام ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عظمی بخاری بے بنیاد اور گمراہ کن بیانات دینے سے باز رہیں، رمضان ریلیف پیکج پر مردہ سیاست چمکانا پنجاب حکومت کی بے حسی کاثبوت ہے، شفیع جان

صوبائی بدامنی کی صورت حال

عدالت عالیہ نے چیف سیکرٹری سے کہا کہ آپ نے کیا کارروائی کی ہے اب تک؟ خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں بدامنی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، بدقسمتی کی بات ہے کہ رولنگ پارٹی اپنے ہی لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ چاہتے ہیں 26ویں ترمیم کیس کے فیصلے کے بعد یہ کیس سنیں؟ جسٹس امین الدین کا وکیل حامد خان سے مکالمہ

عدالت کا فیصلہ

عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ تمام سڑکیں فوری کھول دی جائیں اور کل رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک ہفتے کے دوران ملا جلا رجحان رہا

میڈیا سے بات چیت

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس نے کہا کہ عدالت نے سٹرکیں کھولنے کا حکم دیا ہے، اب سٹرکیں کھول دیں گے۔ سٹرکیں بند کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

چیلنجز کا سامنا

جب ان سے پوچھا گیا کہ سٹرکیں تو پی ٹی آئی کے ورکرز نے بند کی ہیں، اس پر آئی جی نے کہا کہ عدالت کے حکم کے مطابق جس نے بھی سٹرکیں بند کی ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ بدامنی ایک چیلنج ہے، پولیس اسے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...