پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی احتجاج سے سڑکوں کی بندش پر اظہارِ برہمی، فوری کارروائی کا حکم
پشاور ہائیکورٹ کا فوری کارروائی کا حکم
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی احتجاج سے سڑکوں کی بندش پر اظہارِ برہمی کیا اور فوری کارروائی شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام سڑکیں فی الفور کھول کر رپورٹ جمع کرائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف نے کل خیبر پختونخوا ہاؤس میں پورے پاکستان سے ممبران اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، تنظیمی اور تمام ونگز کے سینئر عہدیداران کا اجلاس طلب کرلیا
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پی ٹی آئی احتجاج سے سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید نے سماعت کی، چیف سیکرٹری کے پی اور آئی جی کے پی پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: بے شمار چھوٹی بڑی برانچ لائنیں تھیں جو چاروں صوبوں میں پھیلی ہوئی تھیں،بیشتر بند ہو چکی ہیں جو ابھی چل بھی رہی ہیں وہ آخری ہچکیاں لے رہی ہیں
ایڈووکیٹ جنرل کا بیان
دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پارلیمنٹرین اسلام آباد سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرانے کے لیے گئے ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہماری ڈومین نہیں، احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگوں کا فیصلہ سوشل میڈیا پر نہیں میدانِ جنگ میں ہوتا ہے: ترجمان پاسدارانِ انقلاب
عدالت کا سخت موقف
آئی جی ذوالفقار حمید نے عدالت سے استدعا کی کہ دو دن دیئے جائیں، عدالت نے حکم دیا کہ دو دن نہیں، آج سے کارروائی شروع کریں۔ بدقسمتی ہے کہ حکمران جماعت اپنے ہی لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرنیشنل کالج فار لیگل اسٹڈیز (ICLS) کے نئے کیمپس کا افتتاح کرتے ہوئے قانونی تعلیم میں تاریخی سنگ میل طے کرلیا
موت کے واقعات پر تشویش
وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی احتجاج کی وجہ سے 2 افراد راستے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ جاں بحق افراد ان کے لیے شاید اہم نہیں ہوں گے، کسی صورت موٹر وے بند نہیں ہونی چاہئے، پشاور میں بھی کسی جگہ پر احتجاج نہ کرنے دیا جائے۔ سٹرکوں کی بندش کی وجہ سے ہمارے بچے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: کئی بار ایسا ہوتا کہ وہ اپنی دنیا میں اتنے گم ہوتے کہ لاکھ آوازیں دو ہاتھ سے ہلاؤ مگر وہ جہاں پہنچے ہوتے وہاں سے دنیاوی بات یا آواز سنائی ہی نہیں دیتی تھی۔
سڑکوں کی بندش کا جائزہ
عدالت نے آئی جی سے استفسار کیا کہ کتنے دن ہوگئے جب سے یہ سٹرکیں بند ہیں۔ آئی جی نے بتایا کہ پہلے 16 پوائنٹس پر احتجاج تھا جس کو کم کر کے 10 پوائنٹس تک محدود کیا گیا۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا یہ قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ سٹرکیں بند ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: روس میں ایرانی سفیر نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی روسی ہسپتال میں زیر علاج ہونے کی تردید کردی
پولیس کی کارروائیاں
آئی جی نے کہا کہ یہ موٹر وے پولیس کی حدود میں آتا ہے، جب وہ مراسلہ بھیجتے ہیں تو ہم کارروائی کرتے ہیں۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جب ایک سٹرک بند ہوتی ہے تو پورا پشاور جام ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی کامیاب نجکاری کو بارش کا پہلا قطرہ قراردے دیا
صوبائی بدامنی کی صورت حال
عدالت عالیہ نے چیف سیکرٹری سے کہا کہ آپ نے کیا کارروائی کی ہے اب تک؟ خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں بدامنی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، بدقسمتی کی بات ہے کہ رولنگ پارٹی اپنے ہی لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: مظفر گڑھ میں بچے کے ساتھ اجتماعی درندگی، 5 مشتبہ افراد گرفتار
عدالت کا فیصلہ
عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ تمام سڑکیں فوری کھول دی جائیں اور کل رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سینٹرل کمانڈ نے KC-135 ری فیولنگ طیارے کو عراق میں حادثے اور تمام عملے کی ہلاکت کی تصدیق کر دی
میڈیا سے بات چیت
بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس نے کہا کہ عدالت نے سٹرکیں کھولنے کا حکم دیا ہے، اب سٹرکیں کھول دیں گے۔ سٹرکیں بند کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
چیلنجز کا سامنا
جب ان سے پوچھا گیا کہ سٹرکیں تو پی ٹی آئی کے ورکرز نے بند کی ہیں، اس پر آئی جی نے کہا کہ عدالت کے حکم کے مطابق جس نے بھی سٹرکیں بند کی ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ بدامنی ایک چیلنج ہے، پولیس اسے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔








