پی ٹی آئی احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے خلاف درخواست، پشاور ہائیکورٹ برہم، چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا طلب
پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج اور سڑکیں بند کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ ایران سے نئی ڈیل کیلئے 4 شرائط عائد کرنا چاہتی ہے، امریکی میڈیا
عدالت کی برہمی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرخ جمشید نے درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے سڑکیں بند کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹا مجھے کھیلتا دیکھنا چاہتا ہے، احمد شہزاد پی ایس ایل میں سلیکٹ نہ ہونے پر رو پڑے
درخواست گزار کی اپیل
درخواست گزار نے کہا کہ سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ سڑکیں بند کرنے والے کتنے افراد کے خلاف کارروائی ہوئی؟ عدالت نے پوچھا کہ اب تک کتنے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی؟
یہ بھی پڑھیں: لاکھوں بھارتی شہریوں کا مستقل امریکی رہائش کے حصول کا طویل انتظار: ‘لگتا ہے ہم گرین کارڈ ملنے سے پہلے ہی مر جائیں گے’
ایڈووکیٹ جنرل کا موقف
ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے بتایا کہ وقت دیا جائے، ڈیٹا مرتب کرنے میں وقت لگے گا۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ پرانے مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان: 8 سالہ بچی کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے والے ملزم نے خود کو گولی مار لی
عدالت کی تنقید
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آپ نے تو سماعت سے قبل ہی ہمیں ذمہ دار قرار دے دیا، جس پر جسٹس اعجاز انور نے جواب دیا کہ آپ نے خود بتایا بانی کے علاج کے معاملے پر سڑکیں بند ہیں۔ عدالت نے کہا کہ چوتھے روز بھی آپ نے سب کچھ بند کیا ہے، اب تک کیا کارروائی ہوئی؟
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن اتحاد کے علاوہ کسی کمیٹی یا فرد کو مذاکرات کی اجازت یا اختیار نہیں: عون عباس بپی
صوبے کی عوام کی مشکلات
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ میں کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کررہا، جس پر عدالت نے کہا کہ ہم نے آپ کو سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں کہا، آپ کو شوق ہے تو جا کر ان کے ساتھ بیٹھ جائیں۔ صوبے کے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، لوگ مر رہے ہیں۔
آگے کا لائحہ عمل
عدالت نے کہا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پیش ہوں، اور سماعت میں وقفہ کردیا گیا۔








