عادل نواز خان نے مثال قائم کر دی
سرکاری اداروں میں تعلیمی ریفارمز
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سرکاری اداروں میں ریفارمز کی بات کی جاتی ہے۔ ہیومن ریسورس اور افسران بھی ان میں آتے ہیں۔ عموماً یہ ہوتا تھا کہ ایک بار سرکاری نوکری مل گئی تو پڑھائی لکھائی سے تعلق ختم۔ لیکن بڑی اچھی بات ہے کہ آج کل سرکاری افسر بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مفتاح اسماعیل نے ’’کرپٹو مخالف بیانیہ‘‘ کیوں اپنایا، اربوں روپے کہاں گئے، پریس کانفرنس میں کیا کچھ چھپانے کی کوشش کی۔۔۔؟ تہلکہ خیز انکشافات
ڈپٹی ڈائریکٹر عادل نواز خان کی کامیابی
ہمارے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر عادل نواز خان، جو ڈی جی پی آر میں الیکٹرانک میڈیا سیکشن کو دیکھتے ہیں، نے پنجاب یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلشنز میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ یہ بڑی مثبت بات ہے۔ انہوں نے اس دوران امریکہ میں فیلو شپ بھی کی۔
صلاحیتوں کی اپ گریڈیشن کا اثر
ایسے افسر جو اپنی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرتے رہیں، اس کا گورننس پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ انہیں ہم مبارک بھی دیتے ہیں۔ حکومت ایسے پڑھے لکھے افسران کی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرے۔








