آمد کا بہت بہت شکریہ، 4 سال بعد ناکامی کا زخم قدرے مندمل ہوچکا تھا لیکن ایک کسک باقی تھی، دوسرے لوگوں کی مدد کیلیے اِدھر اُدھر چکّر لگانے لگا

مصنف کی تعارف

مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 61

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا عید کی خوشی میں ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا اعلان

امدادی سرگرمیاں

چنانچہ پھر میں دوسرے لوگوں کی مدد کے لیے اِدھر اُدھر چکّر لگانے لگا۔ پروفیسر صاحب سے بھی ملاقات ہوئی، وہ بھی کچھ تھوڑی ضربوں کے بعد بچ گئے تھے۔ کئی جان کی بازی ہار گئے، کسی کی ٹانگ ٹوٹ گئی، کسی کا بازو شل ہوگیا، تو کوئی بے ہوشی کی حالت میں بے سُدھ پڑا کراہ رہا ہے۔ امدادی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو آہستہ آہستہ بسّوں کے ذریعے، کاروں کے ذریعے لاشوں کو زیادہ زخمی لوگوں کو فیصل آباد اور معمولی کیس شاہ کوٹ ہسپتال ریفر کر دئیے گئے۔ میرا معائنہ شاہ کوٹ ہسپتال میں کرنے کے بعد ماتھے پر دوائی لگا کر پٹی باندھ دی اور فارغ کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر جے یو آئی رہنما حافظ حمداللہ کا بیان

گاؤں واپس آنا

میں وہاں شاہ کوٹ اڈہ سے پھر بس میں بیٹھ کر رکھ برانچ نہر کے پُل سے اُتر کر اپنے گاؤں چندیاں تلاواں چلا گیا۔ میرے والدین ساری صورتِ حال دیکھ کر ایک دم پریشان بھی ہوئے لیکن پھر ایک دم شکرانہ ادا کرتے ہوئے غرباء و مساکین کی امداد اور ایک دعوت کا اہتمام کر کے عزیز و اقارب کو بھی اِس صورتِ حال سے آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مون سون نے سندھ کا رخ کر لیا، موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب، بجلی بند

بچیانہ ریسٹ ہاؤس میں پڑاؤ

پھر 1954-55ء میں گوگیرہ برانچ نہر پر واقع ”بچیانہ ریسٹ ہاؤس“ میں پڑاؤ تھا (یہاں سے شاہ کوٹ جڑانوالہ کا سروے کیا)۔ یاد رہے اُن دنوں علاقے کے بڑے زمینداروں کے پاس نمائشی ٹانگے ہوتے تھے جن پر سوار ہو کر نزدیکی شہر جاتے تھے اور ضروریاتِ زندگی کی خرید و فروخت کرتے۔ ہمیں چونکہ نئی "Willeys Jeeps" ملی ہوئی تھیں تو جب اُن وڈیروں کے ڈیروں پر جاتے تو ایک شاندار استقبال ہوتا۔ لذیذ کھانوں سے تواضع ہوتی اگر جیپ میں سوار کر کے شہر لے جاتے تو وہ اسے ایک اعجاز خیال کرتے۔

یہ بھی پڑھیں: دورۂ متحدہ عرب امارات کے لیے پاکستان انڈر 19 اسکواڈ کا اعلان کر دیا گیا

سروے کا تجربہ

وہاں پر ہی جو ایک گاؤں ”برالہ“ میں سروے کرنے گئے تو وہ کچھ زیادہ ہی اثر پذیر ہوگئے۔ ہمیں بٹھا کے ٹھنڈے مشروب سے تواضع کی اور 2 عدد گھوڑیاں سواری کے لیے پیش کیں، جن پر سوار ہو کر ہم نے اُس سیم زدہ علاقے کا سروے کیا اور واپسی پر ایک پُر تکلف کھانا فرش راہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایک مظلوم کو بے توقیر شے بنا کر پورا نظام ننگا کر کے رکھ دیا، دکھ اور اداسی کی انتہا، سب سے تگڑے وزیر کے چہرے پربے بسی اور آنکھ میں نمی تھی

پاکستان نیول ریزو میں کمیشن

1948ء میں میٹرک فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا تو Commission in Pakistan Army کے لیے تعلیمی استعداد میٹرک پاس ہی تھی۔ اپلائی کیا تو ایک ہفتہ لاہور چھاؤنی کی ہوا بھی کھائی۔ لیکن آخری دن جو ایک مراسلہ تھمایا تو پتہ چلا کہ جناب آپ پاکستان آرمی کے معیار پر پورے نہیں اُترے۔ آپ کی آمد کا بہت بہت شکریہ۔ 4 سال بعد ناکامی کا زخم تو قدرے مندمل ہوچکا تھا لیکن ابھی ایک کسک باقی تھی کہ 1954؁ء کو آنکھوں کے آگے پھر وہی منظر دکھائی دیا۔ یہ تھا پاکستان ”نیول ریزو“ میں کمیشن۔ اس کے لیے تعلیمی استعداد گریجوایشن اور کسی سرکاری عہدے میں تعیناتی بطور کلاس ٹو آفیسر تھی۔ تو جناب فوراً پاکستان نیول ریزو کے لیے درخواست داغ دی۔ غالباً 3 ہفتے بعد ایک مراسلے کے ذریعے آگاہ کیا گیا کہ آپ میڈیکل کے لیے لاہور چھاؤنی میں سی ایم ایچ میں مجوزہ تاریخ کو پیش ہوں۔ چنانچہ خادم تاریخ مقررہ پر سی ایم ایچ لاہور میں جا حاضر ہوا۔ وہاں جناب "ENT Specialist" صاحب اُس کے سامنے ہال کے دُوسرے کونے میں میز پر تشریف فرما تھے۔ مدُعا یہ تھا کہ میں غور سے سن کر "ENT Specialist" صاحب کی زبان سے نکلے الفاظ سنوں اور دہراؤں کہ انہوں نے کیا بات کی ہے؟ (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...