دورہ آسٹریلیا میں ناشتہ خود بنانا پڑا، برتن دھونے پڑے، قومی ہاکی ٹیم کے کپتان پھٹ پڑے۔
قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی شکوے
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) آسٹریلیا سے وطن واپس پہنچتے ہی قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی پھٹ پڑے۔ دورہ آسٹریلیا کے دوران کس بد انتظامی کا سامنا کرنا پڑا، کیا کیا مشکلات پیش آئیں، سب کچھ قوم کے سامنے رکھ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی طبعیت خراب ہو گئی
کپتان عماد بٹ کی تنقید
پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے موجودہ انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑی اس مینجمنٹ کے ساتھ مزید کام جاری نہیں رکھ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو جس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا وہ ناقابلِ برداشت ہیں اور اس تمام صورتحال نے کھلاڑیوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس کے سٹریٹجک طیاروں کی تباہی، امریکہ کے لیے نئی پریشانی کھڑی ہوگئی
پریس کانفرنس کے دوران بیانات
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عماد بٹ نے کہا کہ دورے کے دوران کھلاڑیوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں تھیں۔ ہمیں اپنا ناشتہ خود بنانا پڑا، برتن خود دھونے پڑے اور روزمرہ کے تمام انتظامات اپنی مدد آپ کے تحت کرنا پڑے۔ ایسے حالات میں کسی بھی ٹیم سے بہترین کارکردگی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم پر کیا گزری ہے اور تمام کھلاڑی اس معاملے پر متحد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انڈین نیوز ایجنسی کا ویکیپیڈیا کے خلاف مقدمہ: ویکیپیڈیا کی فعالیت اور اس پر اعتماد کی سطح کیا ہے؟
دھمکیوں کا ذکر
کپتان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے کھلاڑیوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر انہوں نے آواز اٹھائی تو ان پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ کھلاڑی ہیں جو میدان میں ملک کے لیے اپنی جان لڑا دیتے ہیں، اگر ان پر پابندی لگانے کا سوچا بھی جا رہا ہے تو یہ شرمناک بات ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فوجی عدالتوں سے ہمارے ورکرز کو غیر آئینی طور پر سزا دی گئی: عمر ایوب
سڈنی کی صورتحال
عماد بٹ نے دورۂ آسٹریلیا کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب ٹیم سڈنی پہنچی تو وہاں کوئی انتظام موجود نہیں تھا اور کھلاڑیوں کو بارہ گھنٹے تک سڑکوں پر انتظار کرنا پڑا۔ اس کے بعد جب ہم ہوبارٹ پہنچے تو بتایا گیا کہ ہوٹل کی بکنگ کی ادائیگی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے ہمیں وہاں بھی چیک اِن کی اجازت نہیں ملی۔ مزید چار سے پانچ گھنٹے کی تاخیر کے بعد ہمیں ایئر بی این بی طرز کی رہائش میں منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: شاندار کامیابی کے بعد ارشد ندیم کا موقف بھی آگیا
پیش professional سرگرمیاں
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں کھلاڑیوں کے لیے پیشہ ورانہ انداز میں کھیل جاری رکھنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے اور اگر معاملات کو فوری طور پر درست نہ کیا گیا تو اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈانس ’’میرا دل یہ پکارے‘‘ سے مشہور ہونے والی لڑکی میٹرک میں 3 بار فیل نکلی۔
وزیر اعظم کا نوٹس
اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے آسٹریلیا میں پاکستان ہاکی میں بدانتظامی کا نوٹس بھی لیا تھا۔ حکومت کی جانب سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو 25 کروڑ روپے کی گرانٹ ملنے کے باوجود قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی آسٹریلیا میں رُلتے رہے۔
تحقیقات اور کارروائی
پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ہاکی میں اس بد انتظامی کا نوٹس لیا جبکہ پی ایس بی نے تحقیقات کا آغاز بھی کردیا۔ ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا。








