این سی سی آئی اے اور دیگر ملازمین کی مستقلی کے کیس میں فریقین کو نوٹس جاری
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے 43 افسران و ملازمین کی مستقلی سے متعلق درخواست پر وفاق سمیت متعلقہ اداروں کو جواب کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور؛سیوریج لائن میں گرنے والی 10ماہ کی بچی کی لاش مل گئی
درخواست گزاروں کی جانب سے استدعا
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس محمد اعظم خان نے درخواست گزاروں کی جانب سے دائر پٹیشن پر سماعت کے بعد وفاقی حکومت، ایف آئی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور وفاقی وزارت قانون کو ہدایت کی کہ پیراوائز کمنٹس عدالت میں جمع کرائے جائیں اور ان کی نقول درخواست گزاروں کو بھی فراہم کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: جائیداد کے لالچ میں بیٹے نے باپ کو سانپ سے ڈسوا دیا
وکیل کا مؤقف
درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کنٹریکٹ ختم کرنے کے احکامات جاری کرنے سے روکے اور پٹیشن کے حتمی فیصلے تک تنخواہوں اور دیگر مراعات کی ادائیگی جاری رکھنے کا حکم دے، استدعا کی گئی کہ متعلقہ آسامیوں کو خالی قرار دے کر دوبارہ ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی سے روکا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹرز کو مختلف لیگز کے لیے این او سی جاری
سروس ریکارڈ اور ترقی کے اقدامات
درخواست گزاروں نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے کو ان کا سروس ریکارڈ ایف پی ایس سی کو بھجوانے کا حکم دیا جائے اور ایف پی ایس سی کو قانون کے مطابق قواعد بنا کر ان کی ترقی اور مستقلی کے لیے اقدامات کا پابند کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی خاتون کی شوہر سے چھٹکارے کی سازش، گاڑی میں گائے کا گوشت رکھ دیا
پٹیشن کے نکات
پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کو باقاعدہ اشتہار، ٹیسٹ، انٹرویو اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد تعینات کیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں ایف آئی اے سے ڈیپوٹیشن پر این سی سی آئی اے بھیجا گیا۔
عدالتی حکم اور آئندہ کا لائحہ عمل
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کی جانب سے اٹھائے گئے نکات غور طلب ہیں لہٰذا فریقین کو جواب کے لیے نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا.








