عدم اعتماد صرف میں لا سکتا، کامیاب کرانا بھی جانتا ہوں: صدر مملکت
لاہور میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی ملاقات
صدر مملکت آصف علی زرداری کی پیپلزپارٹی پنجاب کے رہنماؤں سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی روبوٹس کا ڈانس اور مارشل آرٹس کا عمدہ مظاہرہ، دنیا کو حیران کردیا، ویڈیو
بخوبی یاد رکھیں
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر زرداری نے پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، یہ مت بھولیں۔ عدم اعتماد لانا اور پھر کامیاب کرانا بھی جانتا ہوں۔'
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں سموگ کے نئے سپیل کا خطرہ، ریڈ الرٹ جاری
خدمت کی سیاست
انہوں نے مزید کہا کہ 'ہمیں وزارتوں اور اختیارات کی بجائے خدمت کی سیاست کرنا ہوگی۔ پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے، پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ میں نے صدر بن کر پاکستان کی سپورٹ کی، پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا، وزارتیں اس لئے ہم نے نہیں لیں کہ ہم پارٹی کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔'
یہ بھی پڑھیں: بدنام زمانہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام بھی سامنے آگیا
صبر اور تحمل
ذرائع کے مطابق زرداری نے کہا کہ 'میں نے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبر اور تحمل سے کام لیا۔ پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، ہمیں ان کو ختم کر کے پارٹی کو مضبوط بنانا ہے۔'
یہ بھی پڑھیں: بھارتی حلقوں میں ماہرہ اور فواد کے بیانات پر غصے کی لہر دوڑگئی، پابندی کا مطالبہ
گورنر پنجاب کی کوششیں
صدر مملکت نے یہ بھی کہا کہ 'گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے پنجاب میں پارٹی کی مضبوطی کے لئے بہت کام کیا، انہوں نے گورنر ہاؤس کو آپ سب کے لئے کھول دیا اور ہر وقت آپ کے لئے دستیاب رہتے ہیں۔'
یہ بھی پڑھیں: یونان کا پہلگام واقعہ کی شفاف تحقیقات کیلئے پاکستانی تجویز کا خیرمقدم
عوامی خدمت کا اہمیت
زرداری کا کہنا تھا کہ 'میں اپنے کاموں کی وجہ سے نواب شاہ سے جیتا ہوں، سب کو عوامی خدمت پر فوکس کرنا ہوگا ورنہ ہم مضبوط نہیں ہوں گے، عوام کے بغیر آپ کسی کام کے نہیں، عوام سے تعلق جوڑے رکھنا ہے۔'
بھٹو کی وراثت
آصف زرداری نے یہ بھی کہا کہ 'اگر بھٹو پاکستان کو ایٹمی طاقت نہ بناتے تو آج ہماری نیپال سے بھی بری حالت ہوتی۔ اب تک سندھ میں سوا چار ہزار نہروں کو پختہ کیا جا چکا ہے، پندرہ برسوں میں پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کئی پل بنا چکے ہیں۔'








