سورج طلوع ہوتا اور پھر کہنے کو تو شام ہوتی پر حضور سارا دن عید ہوتی، اور ہاں رات کی سیاہ اوڑھنی کب اسے ڈھانپ سکتی ہے، آنگن میں کھِلے رنگا رنگ پھول
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 62
یہ سلسلہ انہوں نے 3 بار دہرایا۔ لیکن مجھے کچھ سُجھائی نہ دیا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ہال کے وسط میں پڑی میز اور کرسیوں کی طرف مجھے آنے کا کہا۔ اور وہاں انہوں نے حتمی فیصلہ کرتے ہوئے مجھے ایک مراسلہ تھما دیا۔ جس پر لکھا تھا:
"You are unfit for Pakistan Naval Reserve"
میں اپنا سا منہ لے کر باہر آگیا کہ پاکستان آرمی جوائن کرنے کا دوسرا موقع بھی کھو دیا۔ اگر سلیکشن ہوجاتی تو ہر سال ایک ماہ کے لیے کراچی نیوی میں حاضری ہوتی۔ ٹریننگ ہوتی اور باقی 11 ماہ اپنی موجودہ نوکری پر ہی کام جاری رہتا۔ لیکن اگر ملک میں "Emergency" کا اعلان ہوجائے تو فوراً نیو ی میں جا کر مستقلاً ڈیوٹی پر حاضر ہونا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نشونما پروگرام میں 97 ارب روپے کی تقسیم، مفتاح اسماعیل کی کمپنی کو مبینہ طور پر ٹھیکہ دیے جانے کا انکشاف
بیگم کی بیماری اور داغِ مفارقت
سُورج طلوع ہوتا اور پھر کہنے کو تو شام ہوتی پر حضور سارا دن عید ہوتی…… عید سعید ہوتی اور ہاں رات کی سیاہ اوڑھنی کب اسے ڈھانپ سکتی ہے……؟ نہ نہ ہر شب…… شبِ برأت ہوتی…… سوال ہے کیوں نہ ہوتی؟ جوانی کے حسین و جمیل سنگم پہ درخشاں دو ستارے پوری تمازت پوری توانائی سے جلوہ افروز ہوں تو گردِ راہ کی کیا مجال جو حائل ہوتی۔ نہ سیم و زر کی کمی، نہ نان و نفقہ کا غم اور آنگن میں کھِلے اللہ کی نوازش کے کئی رنگا رنگ پھُول۔
”قدرت کی ستم ظریفی“ کہ کر پھر توبہ کی …… نہ نہ …… یہ جملے خدائے ذوالجلال …… معاف کرے…… یہ تو میرے اللہ نے جو لکھ دیا لوح محفوظ میں …… اس میں نہ ایک حرف بڑھا نہ ایک نقطہ کم، سانس کی ڈوری تھی ہی اتنی لمبی۔ میں کیا کرتا؟ طبیب کس کس جُز کو سنوارتا۔
اچھی بھلی، سروقد، نہ نحیف و نزار نہ بھاری بھر کم، خوش شکل و خوش گفتار، سبک خرام بھی اور تیز طرّار بھی لباس جو پہنے سجے، گھر داری کا سلیقہ واہ واہ!…… بے خوف و خطر بچّوں کے حصولِ علم کی خاطر مکتب و مُلاّں سے شناسائی …… صوم و صلوٰۃ کی پابند۔ اپنوں سے بے پناہ چاہ اور بیگانوں سے بھی رسم و راہ۔ یہ تجزیہ میرا کہ ہاتھ پہ سرسوں جمانے کی چاہت لیے۔ ننھّے مُنّوں کی یک دم پرواز کی متمنّی …… اُن کی کارکردگی سے نالاں …… سر میں سودا ہوا جو پیدا …… سرد رد نے آجمایا ڈیرہ اور پھر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ جسم فالج زدہ سا ہوگیا۔ سہارے سے بول و براز کے لیے آنا جانا ہوگیا۔
علاج کی ابتدا
واپڈا ہسپتال لاہور سے علاج شروع کیا۔ وہاں نیورو سرجن نہ تھا۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب پورے لاہور شہر میں صرف 4 نیو رو سرجن / نیورو فزیشن تھے۔ تین سول میں ایک CMH لاہور کینٹ میں بریگیڈئیر صاحب۔ چاروں کا بورڈ بنایا۔
علاج شروع ہوا …… کچھ بہتری بھی نظر آئی۔ لیکن ایک بد قسمت شام کو جب گھر کے ساتھ والے کلینک کے کمپوڈر کو ٹیکہ لگانے کے لیے لایا۔ ٹیکہ لگا اور پھر…… چراغوں میں روشنی نہ رہی…… میرے گھر کی رونق…… میری چاہتوں کی محور، میرے بچّوں کی مادرانہ شفقت، پل جھپکتے نظروں سے اوجھل اور مغل پورہ گنج کے قبرستان میں منوں مٹی تلے آسودۂ خاک ہوئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








