غیر قانونی تعمیرات کی بھر مار قبضہ مافیا کے منہ زور ہونے کی دلیل تھی، بہاولپور والا فارمولا اپنایا گیا، نتائج نہ آنا ممکن ہی نہ تھا، کوتاهی پر سرزنش ہوتی
مسائل کا اجمالی خاکہ
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 443
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی نوجوان فصلوں کی بہتر پیداوار کے لیے چین میں کاشتکاری کی مہارتیں سیکھنے میں مشغول
گوجرانوالہ کے مسائل
گوجرانوالہ بھی ویسے ہی مسائل کا شکار تھا جیسے بہاول پور میں تھے۔ مسائل کا تفصیلی ذکر بہاول پور والے باب میں بیان ہو چکا ہے۔ لاہور کے قریب ہونے کی وجہ سے اس ڈویثرن کی اہمیت زیادہ تھی۔ یہ مسلم لیگ (ن) کا گڑھ اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا آبائی ضلع ہونے کی وجہ سے خادم اعلیٰ کی نظر بھی یہاں کچھ زیادہ ہوتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی خاتون کا انوکھا کارنامہ، جسم کا اہم حصہ اتنا زیادہ کھول لیا کہ نیا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا
مقامی حکومتوں کی کارکردگی
مقامی حکومتوں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان تھا۔ غیر قانونی تعمیرات کی بھرمار قبضہ مافیا کے منہ زور ہونے کی دلیل تھی۔ یہاں نقشہ پاس کرانے کا کوئی رجحان نہیں تھا۔ بڑے بڑے پلازوں کی تعمیر بغیر نقشہ پاس کرائے شروع کر دی جاتی تھی۔ صرف نقشہ متعلقہ دفتر میں جمع کرایا جاتا، نہ فیس ادا کی جاتی، اور نہ ہی کوئی خدمت انجام دی جاتی تھی، جس کے نتیجے میں عمارت کی تعمیر شروع ہوجاتی تھی۔ متعلقہ بلدیاتی اداروں کا مالی نقصان کروڑوں میں تھا۔ کچھ ادارے تو ملازمین کی تنخواہیں بھی ادا کرنے کے قابل نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سب سے پہلے دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ
کمشنر کی مداخلت
کمشنر ناجائز تجاوزات سے بہت چڑھتے تھے۔ تدارک کے لئے دو اقدامات اٹھائے گئے۔ پہلا؛ "ہر ٹی ایم اے کو اُن کی آمدن اور اخراجات کے حوالے سے فارم بھیجا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ نقشہ جات کی فیس میں کتنی آمدن ہوئی اور کتنے بقایا جات تھے۔ دوسرا ناجائز تعمیرات کے خلاف کیا کارروائی ہوئی اور اگر نہیں ہوئی تو ذمہ داری کس کی تھی؟" کوئی بھی عمارت، خاص طور پر کمرشل عمارت کی تعمیر، بغیر نقشہ منظوری اور فیس جمع ہونے تک شروع نہ کی جائے۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکام اور متعلقہ ڈی سی او بھی ذمہ دار ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
کارروائی کا آغاز
ڈی سی اوز کو بھی علیحدہ سے ہدایات جاری کی گئیں کہ نئی بننے والی عمارات خاص طور پر کمرشل بلڈنگز پر نظر رکھیں اور یہ بات یقینی بنائیں کہ کوئی عمارت نقشہ منظور ہوئے اور فیس ادا کیے بغیر شروع نہ ہو۔ شروع میں ٹی ایم اے حکام نے ان ہدایات کو روٹین کی کارروائی ہی سمجھا۔
یہ بھی پڑھیں: سب مل کر سیلاب زدگان کی مدد کریں، قائمقام چیئرمین سینیٹ
کمشنر کی سختی
کمشنر کی عادت تھی کہ وہ دفتر سے گھر آتے جاتے یا دوسرے اضلاع کے دورے پر جاتے وقت مختلف راستے اختیار کرتے اور راستے میں کوئی کمرشل عمارت زیر تعمیر نظر آتی تو اس کی تصویر بناتے اور تصویر اور لوکیشن مجھے ٹیکسٹ میسج کرکے رپورٹ طلب کرتے؛ "اس عمارت کا نقشہ پاس تھا یا نہیں اور یہ کس ٹاؤن کی حدود میں آتی تھی۔" بارہ گھنٹے میں رپورٹ وصول کی جاتی اور پھر دم مست قلندر شروع ہو جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جوابی کارروائی کے کئی آپشن لیکن پاکستان کی کوشش کیا ہوگی؟ الجزیرہ نے تجزیہ پیش کردیا
رویے میں تبدیلی
دو تین بار متعلقہ حکام کی سرزنش ہوئی تو سبھی کو سمجھ لگ گئی کہ اب موج میلہ نہیں بلکہ کام کرنا ہوگا۔ کمشنر کا پیغام صاف اور واضح تھا۔ "اب تمام متعلقہ حکام کو یہ باور ہو گیا کہ کمشنر means business" اور انہوں نے جاری کردہ احکامات کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر، یورپی یونین اور بلاول کی سفارتکاری
نئی ہدایات
کمشنر نے ان ہدایات پر عمل درآمد کے لئے میٹنگ بلائی جس میں آنے والے دنوں کے لئے انہوں نے ایک وضاحت کر دی کہ نئی عمارات کے ساتھ ساتھ غیر ادا شدہ واجبات اگلے 2 ماہ میں وصول کرکے ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو رپورٹ کریں۔ یہاں بھی بہاول پور والا آزمودہ فارمولا اپنایا گیا۔ نتائج نہ آنا ممکن ہی نہ تھا۔
ماہانہ میٹنگز
کمشنر ہر ماہ ہر ضلع کی میٹنگ چیئر کرتے اور معمولی سی کوتاہی پر سخت سرزنش ہوتی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








