ایپسٹین فائلز کیس، اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کونسل کے آزاد ماہرین نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا
ایپسٹین کی ای میلز میں الزامات
نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے ماہرین نے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی ای میلز میں موجود الزامات کو ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں ہندوکی ہندو سے لڑائی بھی شروع ، کئی جماعتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، استعفوں کی برسات، مسلمان سپریم کورٹ میں، مودی نے ایک اور شوشہ چھوڑ دیا
تحقیقات کا مطالبہ
’’جنگ‘‘ کے مطابق ماہرین نے ایپسٹین فائلز کیس کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کونسل کے آزاد ماہرین کے پینل کا کہنا ہے کہ امریکی محکمۂ انصاف کی جاری کردہ دستاویزات میں بیان کیے گئے جرائم نسل پرستی، بدعنوانی اور شدید عورت دشمنی کے پس منظر میں سرزد ہوئے۔ ایپسٹین کی لاکھوں فائلیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایک عالمی مجرمانہ نیٹ ورک موجود تھا۔
انسانیت کے خلاف جرائم
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک نے ایسے اقدامات کیے جو قانونی طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور آزاد، جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے متقاضی ہیں۔








