سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن نے مزید لوگوں کے بیانات قلمبند کر لئے
تحقیقات کا آغاز
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن نے مزید لوگوں کے بیانات قلمبند کر لئے۔
یہ بھی پڑھیں: مصری شہریوں نے غزہ تک امداد پہنچانے کے لیے منفرد مہم ’’سمندر سے سمندر‘‘ شروع کردی
چیف فائر افسر کا بیان
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف فائر افسر کے ایم سی ہمایوں خان نے بتایا کہ اگر لائٹ بند نہ ہوتی یا ایمرجنسی لائٹس ہوتیں تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔ کمیشن نے پوچھا، کیا آپ کے آلات کی حالت تسلی بخش ہے؟ چیف فائر آفیسر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ساری گاڑیاں مکمل فعال حالت میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے کرپٹو کے شعبے میں جو کام مہینوں پہلے کردیا، اسرائیل وہ کرنے کا اب سوچ رہا ہے۔
صدر گل پلازہ ایسوسی ایشن کا مؤقف
صدر گل پلازہ ایسوسی ایشن تنویر پاستا نے مؤقف اختیار کیا کہ آگ دس بجکر دس منٹ پر لگی اور فوری طور پر کے الیکٹرک کو لوکل شٹ ڈاؤن کیلئے کال کی گئی۔ گراؤنڈ فلور کے سولہ راستے کھلے تھے اور بیشتر افراد مسجد کے راستے باہر نکلے۔
یہ بھی پڑھیں: آج تک کوئی نہیں بتا سکتا کہ ملک میں ریپ کے کتنے واقعات ہوئے؟ جسٹس عائشہ ملک
نقصان کا تخمینہ
اکیاون دکاندار اور ملازمین جاں بحق ہوئے، زیادہ تر دم گھٹنے سے ہلاکتیں ہوئیں۔ فائر بریگیڈ بروقت زیادہ نفری اور گاڑیوں کے ساتھ پہنچتی تو نقصان کم ہو سکتا تھا۔
کمیشن کی آئندہ کارروائی
جوڈیشل کمیشن نے تنویر پاستا کو آج دوبارہ طلب کر لیا ہے اور دیگر محکموں کے حکام کو بھی کمیشن کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کر دی گئی۔








