یہ مجھے بھی لمبے عرصے کے لیے صرف اس لیے جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں کہ میں سچ بات کرتی ہوں، علیمہ خان نے اپنی گرفتاری کا خدشہ ظاہر کردیا۔
علیمہ خان کا بیان
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی کا علاج الشفا اسپتال میں ذاتی معالج کی زیر نگرانی کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کا خدشہ ظاہر کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: کینیا میں تعینات برطانوی فوجی نے ایسا کام کر دیا کہ پورے ملک کا سر شرم سے جھک گیا
عدالت میں پیشی کے بعد کے تاثرات
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی تب ممکن جب جسٹس سرفراز ڈوگر کیسز کی سماعت کریں، جب ضمانتیں ملیں گی تو اسی وقت عمران خان کو جیل سے سیدھا الشفاء اسپتال لے جائیں گے۔چیف جسٹس آپ کیسز سنیں، کیس سماعت کے لیے مقرر جج چھٹی پر چلے گئے یہ ناانصافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ پر الزام
علیمہ خان کا کہنا تھا کے آنکھ ایک دن میں خراب نہیں ہوئی اس کا مرکزی ذمہ دار سابق سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ غفور انجم ہے، اس کے خلاف مجرمانہ غفلت و کرائم دفعات تک مقدمہ دائر کرنے جارہے ہیں جس کے لیے وکلا کو ہدایت کردی ہے۔حکومت نے جو تماشہ خان صاحب کے ساتھ کیا انکو شرم آنی چاہیے، فیملی اور ذاتی معالج کی غیر موجودگی میں بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کیا گیا، میری بہن جب آخری دفعہ عمران خان سے ملیں انکو خان صاحب کا یہی پیغام تھا یہ مجھے ختم کر دینگے۔
”عمران خان کی رِہائی تب ممکن ہے، جب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر دونوں کیسز سُنیں۔ کل ہمیں بہت خوشی تھی کہ کیسز کی سنوائی ہونے لگی ہے، لیکن شام کو پتا چلا کہ سرفراز ڈوگر صاحب چُھٹی پر چلے گئے۔ اگر وہ یہ کیسز میرٹ پر سُن کر ضمانت دیدیں تو ہم فوراً عمران خان کو شفا… pic.twitter.com/BDBycywTay
— PTI Islamabad (@PTIOfficialISB) February 19, 2026
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں فوجی مشقوں کے دوران ٹینک نہر میں ڈوبنے سے فوجی ہلاک ہو گیا
سیاسی بنیادوں پر کیسز کا الزام
علیمہ خان نے کہا کہ میں نے خان صاحب کا یہ پیغام پہنچایا تو مجھ پر کیس کردیا گیا، خان صاحب، حامد رضا سمیت دیگر پر کیسز سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے، یہ ایسے کیسز ایک دن میں ہوا میں اڑ جائے اور انشاءاللہ جلد وہ دن آنے والا ہے۔
سچ بولنے کی سزا
علیمہ خان نے کہا کہ ہم تو اسپتال منتقل نہ کرنے اور فیملی سے ملاقات نہ کروانے پر سوالات اٹھائیں گے چاہے آپ مقدمات درج کرتے رہیں، یہ سب احمقانہ کیسز ہیں پہلے بھی جھوٹے کیسز بنتے تھے۔
علیمہ خان نے کہا کہ یہ مجھے بھی لمبے عرصے کیلیے صرف اس لیے جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں کہ میں سچ بات کرتی ہوں مگر اس طرح کی انتقامی کارروائیاں بھی اُن کے جھوٹے سیاسی سسٹم کو نہیں بچائیں گی اور جلد اس ملک کو عوام چلائیں گے۔








