باجوڑ میں 11 جوانوں کی شہادت، پاکستان نے افغانستان کو ڈی مارش کردیا
پاکستان کی جانب سے افغان حکومت کو ڈی مارش
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے باجوڑ میں فتنہ الخوارج کے دہشتگرد حملے میں 11 فوجی جوانوں کی شہادت پر افغانستان کو ڈی مارش کردیا۔ افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال پر ڈی مارش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کا آلو کے کاشتکاروں کے متعلق وزیراعظم شہبازشریف کو خط
وزارت خارجہ کا افغان حکومت کو احتجاجی مراسلہ
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق 16 فروری کو باجوڑ میں دہشت گرد حملے پر افغان حکومت کو احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ باجوڑ میں دہشت گرد حملے میں 11 پاکستانی فوجی جوان شہید ہوئے، حملہ فتنہ الخوارج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے کیا گیا۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی کی قیادت کی افغانستان میں موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اڈیالہ جیل ہے، زمان پارک یا پاکپتن کا پیر خانہ نہیں، جہاں ہر ہفتے چند کرائے کے لوگوں کے ساتھ تماشا لگایا جاتا ہے، عظمیٰ بخاری
افغان حکام کی جانب سے ناکافی اقدامات
ترجمان نے کہا کہ ٹی ٹی پی کی قیادت افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک سرگرمِ عمل ہے، پاکستان کو افغان عبوری حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود کوئی ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدام سامنے نہیں آیا۔ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات یقینی بنائے۔
پاکستان کا حق دفاع محفوظ
ترجمان کے مطابق پاکستان فتنہ الخوارج اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔








