عوام زبردستی کسی کو اتاریں تو وہ ’’ذلت‘‘ ہے، لیکن جب کوئی خود مدت پوری کر کے جائے تو وہ’’ عظمت‘‘ ہے‘‘ ڈاکٹر محمد یونس کے اقتدار کی پروقار رخصتی، آنکھیں چھلک پڑیں
ڈاکٹر محمد یونس کا مستعفی ہونے کا اعلان
لاہور (طیبہ بخاری سے) بنگلہ دیش کے عبوری چیف ایڈوائزر اور نوبیل امن انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے حالیہ عام انتخابات کے کامیاب انعقاد اور اقتدار کی پرامن منتقلی کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ 85 سالہ ڈاکٹر یونس نے قوم سے الوداعی خطاب کے دوران جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آنکھیں چھلک پڑیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیزل، ایل پی جی، انڈے، چاول، بیف، دال مونگ اور آلو سمیت 18 اشیا ضروریہ ایک ہفتے کے دوران مہنگی
خود مختاری اور عظمت
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا، "عوام زبردستی کسی کو اتاریں تو وہ 'ذلت' ہے، لیکن جب کوئی خود مدت پوری کر کے جائے تو وہ 'عظمت' ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: ادارے گڈ گو رننس کی تر ویج میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کا ہانگ کانگ میں بین الاقوامی محتسب سربراہ اجلاس سے خطاب
عبوری حکومت کی کامیابیاں
یہ جملہ ان کی تقریر کا ایک اہم حصہ تھا، جس میں انہوں نے عبوری حکومت کے 18 ماہ کے دور کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2024 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد طلباء کی تحریک کے نتیجے میں وہ عبوری قیادت سنبھالنے آئے تھے۔ اب انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی شاندار کامیابی اور طارق رحمان کی قیادت میں نئی حکومت کے آنے کے بعد اقتدار منتقل کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں کرنے پر کسی کو نہیں روکا: عظمیٰ بخاری
جمہوریت اور بنیادی حقوق کی اہمیت
ڈاکٹر یونس نے عوام، سیاسی جماعتوں اور اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات بنگلہ دیش کی تاریخ کے پرامن اور پروقار ترین انتخابات تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جمہوریت، آزادی اظہار اور بنیادی حقوق کا یہ سفر جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا کا ‘براہمنوں کا شہر’ جو اپنی نیلی شناخت کھو رہا ہے
جذباتی وداعی تقریب
الوداعی تقریب میں موجود لوگوں نے ڈاکٹر یونس کی خدمات کو سراہا اور ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کو دیکھ کر جذباتی لمحات کا مشاہدہ کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ منظر وائرل ہو گیا، جہاں لوگ ان کی "پروقار رخصتی" کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔
سیاسی تاریخ کا ایک عظیم لمحہ
یہ واقعہ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں ایک مثالی اور عظیم لمحہ کے طور پر یاد کیا جائے گا، جہاں ایک عالمی شخصیت نے اقتدار کو عزت اور وقار کے ساتھ منتقل کیا۔








