اگر پیسے کا اتنا ہی شوق ہے تو مجرمانہ لوگوں کو جوائن کرو
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 444
ہم لاتوں کے بھوت ہیں باتوں سے تو مانتے ہی نہیں۔ ہم ویسے بھی ڈنڈے کی زبان ہی سمجھتے ہیں۔ ایسی ہی ایک میٹنگ میں اے سی (سٹی) گوجرانوالہ (ملک عارف خاں) کی اتنی سر زنش اتنے سخت الفاظ میں ہوئی جس کا تصور ایک سی ایس پی افسر نہیں کر سکتا تھا۔ اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو اسی لہجے میں کمشنر کو جواب دیتا۔
میٹنگ کی تفصیل
میری سمجھ سے باہر تھا کہ وہ ایسے سخت الفاظ سن اور برداشت کیسے کر گیا۔ اے سی کی بے عزتی بھری میٹنگ میں ہوئی اور وہ منہ نیچے کرکے سنتا رہا تھا۔ بات واضح تھی شاید۔ کمشنر نے کچھ ایسے فقرے بھی کہہ ڈالے؛ "تم حرام سور کھاتے ہو۔ اتنا ہی پیسے کا شوق ہے تو سرکاری نوکری چھوڑو اور ان کرمنل لوگوں کو جوائن کر لو۔ کچھ شرم کرو۔" مجھے متوجہ کرکے بولے؛ "شہزاد! ابھی اس کے خلاف انٹی کرپشن کو ریفرنس بھجواؤ۔ کتنی دیر میں ڈرافٹ لیٹر لا رہے ہو۔" میں نے جواب دیا؛ "سر! دس منٹ میں۔" بولے؛ "انتظار کر رہا ہوں۔" میٹنگ ختم ہوئی۔ میں اپنے دفتر چلا آیا۔ میرا دفتر کمشنر آفس کمپلیکس کی اوپری منزل پر تھا۔
افسر کا فون اور خیالات
میٹنگ کے بعد اس افسر کا مجھے فون آیا، کہنے لگا؛ "سر! جس بلڈنگ کا کمشنر مجھ سے پوچھ رہے تھے آپ نے بھی تو دیکھی تھی جواب آپ دے دیتے۔" "پوچھا تم سے جواب میں دے دیتا۔ کیوں؟" میں نے جواب دیا۔ کہنے لگا؛ "سر! دل چاہ رہا تھا کمشنر کو ویسے ہی ترکی بہ ترکی جواب دیتا۔" میں نے کہا؛ "جواب دیتے مگر تم اس لئے کچھ نہ کہہ سکے کہ کمشنر ٹھیک کہہ رہے تھے۔ تمھاری ناک کے نیچے اتنی بڑی عمارت تعمیر ہوتی رہی، تمھیں آگاہ بھی کیا تھا مگر تم نے آنکھیں بند کئے رکھیں۔" وہ خاموش ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد بولا؛ "اب میرا کیا ہوگا؟ کمشنر کیا میرے خلاف ریفرنس بھجوا رہے ہیں؟" میں نے کہا؛ "موڈ تو ان کا یہی ہے کہ آپ کے خلاف انٹی کرپشن میں ریفرنس بھیجا جائے۔" کہنے لگا؛ "سر! مہربانی کریں مجھے بچائیں کسی طرح۔" "نہیں اللہ سے دعا کرو۔ بندہ کچھ بھی نہیں ہے ماسوائے وسیلہ کے۔"
نماز اور دعا
مجھے یاد ہے وہ جمعہ کا دن تھا۔ میں نے لیٹر ڈرافٹ کیا۔ دیکھا تو نماز کا ٹائم ہو چلا تھا۔ میں نے ڈرافٹ لیٹر کمشنر کے وائرلیس آپریٹر احسن کو دیتے کہا؛ "اگر کمشنر لیٹر کا پوچھیں تو یہ دے دینا اور اگر نہ پوچھیں تو میں خود لے جاؤں گا۔ میرے پوچھیں تو بول دینا نماز پڑھنے گیا ہوں۔" نماز جمعہ میں دعا کی کہ "اے اللہ یہ نوجوان افسر ہے۔ کمشنر نے اس کے خلاف لکھ دیا تو اس کا کریئر خراب ہو جائے گا۔" اللہ نے میرے دل میں ایک بات اتار دی۔ نماز پڑھ کر واپس آیا تو وائرلیس آپریٹر بولا؛ "سر! کمشنر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔"
کمشنر کے ساتھ ملاقات
میں کمشنر کے پاس گیا اور ڈرافٹ لیٹر دیا۔ کمشنر نے ڈرافٹ پڑھ کر کہا؛ "شہزاد اتنے کم وقت میں بہت اچھا لیٹر تیار کیا ہے۔ اسے فئیر کرو، میرے دستخط کراؤ اور انٹی کرپشن والوں کو خود جا کے رسیو کرا ؤ۔" میں نے کہا؛ "سر! ایک درخواست ہے۔" بولے؛ "شہزاد! اس کی سفارش مت کرنا۔ یہ حرام سور کھاتے ہیں۔ تم نے سفارش ہی کرنی ہو گی۔" میں نے جواب دیا؛ "سر! آپ پر مان بھی ہے، اسی لئے ایسی جرأت کر لیتا ہوں اور آپ رحم دل بھی ہیں۔ سر! یہ نوجوان افسر ہے۔ آپ نے لکھا تو بیچارہ مارا جائے گا۔ سارا کریئر تباہ ہو جائے گا۔ اگر مناسب سمجھیں تو سخت الفاظ میں اس کی جواب طلبی کر لیتے ہیں۔ آپ کی طرف سے کی گئی جواب طلبی بھی اس کے لئے کافی ہو گی۔ باقی جیسا آپ مناسب خیال کریں۔ لیٹر تو تیار ہے۔" لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد بولے؛ "شہزاد! تم یہ احسان اپنی طرف سے کر دو۔ اسے کہنا تمھاری سفارش پر اسے چھوڑا جا رہا ہے اور بات جواب طلبی پر ختم کی جارہی ہے۔" ان کی مہربانی، وہ میری بات مان گئے تھے۔
نتائج
دفتر آ کر اے سی کو بلایا۔ اسے ساری بات سنائی۔ وہ کمشنر کا شکریہ ادا کرنے ان کے دفتر گیا اور تھوڑی ہی دیر میں واپس آگیا اور کہنے لگا؛ "سر! کمشنر کہہ رہے ہیں شکریہ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کا ادا کرو۔ سب اسی کی وجہ سے ہوا ہے۔" اے سی کی بچت ہو گئی تھی وہ افسر کچھ عرصہ میرا احسان مند رہا۔ پھر ٹرانسفر ہو کر اے سی مری چلا گیا۔ اس کے بعد اس سے دوبارہ آج تک رابطہ نہیں ہوا۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








