ہم بچوں کو مذاہب کی تعلیم دیتے ہوئے ان میں باہمی احترام، برداشت اور رواداری کی فضاء پیدا کر کے مثالی معاشرے کا قیام عمل میں لا سکتے ہیں
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 312
یہ بھی پڑھیں: سونے 21ہزار200روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 5لاکھ 72ہزار 862روپے ہو گئی
انتہا پسندی سے اجتناب کی اہمیت
پاکستان اور تمام تر اسلامی ممالک میں انتہا پسندی سے اجتناب اس لیے بھی ضروری ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آخری خطبے حج میں رنگ و نسل، ذات پات، علاقائی و لسانی تعصبات، خاندانی و نسلی تفاخر، امیر غریب کے امتیازات، تمام تر پروٹوکول ختم کرنے اور اپنے پاؤں تلے روندنے کا واشگاف الفاظ میں اعلان فرمایا تھا۔ اسلامی معاشرے میں انسانی بھائی چارے اور پْرامن فضاء کے قیام کے لیے اسلام ایسی تمام نفرتوں اور عصبیتوں کو جڑ سے اْکھاڑ دینے کی بات کرتا ہے جو انسان کو ایک دوسرے سے دور کرتی ہیں اور ان کے درمیان نفرت اور تعصب پیدا کرتی ہیں۔ آج بھارت اور امریکہ میں حکومتی ناقص پالیسیوں اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ان کے متعصبانہ طرز عمل کے باعث بھارتی اور امریکی معاشرے بھی بے چینی، بدنظمی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوجرانوالہ میں بھارتی ڈرون گرائے جانے کی اطلاعات، انتظامیہ کا موقف بھی آ گیا
سفارشات / تجاویز اور عملی اقدامات
پاکستان میں ہمیں قرآن کریم کی تعلیمات اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 33 کے مطابق تمام تر مذہبی، لسانی، نسلی، علاقائی/صوبائی، مسالک اور فرقہ پرستی کے تعصبات اور نفرتوں کو خیر باد کہنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایسی تعلیم دینا ہو گی اور تعلیمی نصاب سے ایسا تمام مواد نکالنا ہو گا، جو عوام الناس کو متحارب طبقات میں تقسیم کرتے ہیں، ایک دوسرے سے دور رکھتے ہیں، نفرت اور تعصبات پیدا کرتے ہیں اور اس طرح انتہا پسندی کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں موسلا دھار بارش، دریاؤں اور ندی نالوں میں سیلاب کا خدشہ، الرٹ جاری
تعلیمی اصلاحات اور مذہبی رواداری
قرآن پاک اور سیرتِ رسول سے اپنا رشتہ جوڑتے ہوئے ہمیں ترکی کی طرز پر اپنے سکولوں میں مذہبی تعلیم کے نام پر مسلمان بچوں کے لیے قرآن پاک باترجمہ پڑھانے، کیلی گرافی سیکھنے، قرآن پاک کو حفظ کرنے، قرأت سیکھنے کی تمام تر سہولیات مہیا کرنی ہوں گی۔ ہندو، سکھ، عیسائی اور یہودی بچوں کے لیے بھی اگر ان کی تعداد کلاس میں پانچ یا پانچ سے زائد ہو، ان کے مذاہب کی تعلیم کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ تمام مذاہب امن و آشتی اور محبت و یگانگت کا درس دیتے ہیں۔ ہم پاکستان میں بچوں کو اپنے اپنے مذاہب کی تعلیم دیتے ہوئے ان میں باہمی احترام، برداشت اور رواداری کی فضاء پیدا کر کے ایک خوبصورت مثالی معاشرے کا قیام عمل میں لا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کو بجلی کی فراہمی میں اضافے کا فیصلہ
فرقہ پرستی کا سدباب
پاکستان میں تمام تر تعصبات سے پاک ایک مثالی معاشرے کے قیام کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنی سمت درست کرنا ہو گی، اپنا گھر صحیح کرنا ہو گا۔ قرآن مجید میں متعدد آیات میں فرقہ پرستی سے باز رہنے اور مسلمانوں کو فرقوں میں تقسیم کرنے کی واضح طور پر ممانعت کی گئی ہے لہٰذا پاکستان میں فرقوں اور مسالک کی بنیاد پر الگ الگ مساجد اور مدارس کے قیام کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ کیونکہ فرقہ پرستی کی بنیاد پر قائم ہونے والے ادارے قرآنی تعلیمات کی صریحاً نفی کرتے ہیں اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ، عدم برداشت، جنگ و جدال اور باہمی خلفشار پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔
قرآنی آیات کی روشنی میں
درج ذیل قرآنی آیات میں فرقہ پرستی سے بچنے اور صرف قرآن سے جڑنے کا حکم دیا گیا ہے:
سورہ آل عمران (ترجمہ) “مومنو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور موت بھی آئے تو فرقہ پرستی سے بچتے ہوئے صرف مسلمان ہی مرنا۔ مومنو سب اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور فرقے مت بنانا۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو فرقوں میں بٹ گئے اور واضح احکام (کتاب اللہ) میں آنے کے بعد ایک دوسرے سے اختلاف کرنے لگے یہ وہ فرقہ پرست لوگ ہیں جن کو (قیامت کے دن) بڑا عذاب ہو گا“۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








