پہلی بیگم کی رحلت پر پھوٹ پھوٹ کر نہ رو سکا، چپ سی لگ گئی، قدرت کا اپنا نظام ہے، چاہے تو ڈوبتوں کو بچالے چاہے تیرتوں کو ڈبو دے

مصنف کا تناظر

مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 63

یہ بھی پڑھیں: پیر پگارا کا فوج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار، حر جماعت کو دفاع کیلئے تیار رہنے کا حکم

پہلا صدمہ

میں اکثر سوچا کرتا ہوں کہ میں اپنی پہلی بیگم کی رحلت پر پھُوٹ پھُوٹ کر نہ رو سکا…… مجھے تو جیسے ایک چپ سی لگ گئی۔ ہر وقت کسی ایک نقطہ پر ٹکٹکی لگائے…… رونے دھونے سے عاری…… ایک دہشت زدہ سا کردار بن کر رہ گیا۔ پہلے راستے والے رو دھو کر اپنا غبار نکال…… بعض موذی جسمانی حملوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں اور دوسرے ایک نقطے پر چُپ سادھے کسی انجانی جسمانی مُصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں۔ قدرت کا اپنا نظام ہے۔ چاہے تو ڈوبتوں کو بچالے اور چاہے تو تیرتوں کو ڈبو دے۔ اللہ کی کرم نوازی ہوئی تو آہستہ آہستہ اُس خاموشی اور چُپ سے نکلا……اور اپنے بچّوں کو بغور دیکھا۔ بات کچھ سمجھ میں آئی کہ جانے والے کو تو بلاوا آیا چلے گئے۔ تم کس چکّر میں اپنی ذمہ داریوں سے …… منہ پھیرے…… چپ سادھے…… کچھ گنوا رہے ہو یا کچھ پا رہے ہو؟

یہ بھی پڑھیں: وہ صارفین جن پر انسٹاگرام نے بڑی پابندی عائد کر دی

دوسری شادی کا معاملہ

بیگم کی وفات کے کچھ ہی دیر بعد ایک بار والد صاحب اور والدہ صاحبہ ارادتاً رسماً مجھے کہہ گئے کہ اگر دوسری شادی کا ارادہ ہوا تو بتا دیجئے گا…… پہلے تو میں نے اُس کو سنا اَن سنا کر دیا۔ لیکن وقت گذرتے سمجھ آئی کہ "زندگی زندہ دلی کا نام ہے مُردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں" چنانچہ والدین کے پاس فیصل آباد آتے جاتے یہ فیصلہ ہوچکا کہ دوسری شادی ضروری ہے۔ ویسے بھی میں ابھی پینتالیس کے پیٹے میں تھا، یہ ایک ضرورت بھی تھی اور بچّوں کی نشوونما اور تعلیم و تربیت بھی ایک اہم ذمہ داری تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ فیصل آباد میں ہی ایک سکول ٹیچر کے رشتہ کے سلسلے میں والدین کے پاس گیا۔ تبادلۂ خیال کے بعد اُس رشتہ کو مختلف وجوہات کی بنا پر قابل توجہ نہ سمجھا گیا اور میں واپس بس کے ذریعے لاہور کو روانہ ہوگیا

یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ سے متعلق معاملے میں پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، رانا ثنا اللہ

ساس کی تشویش

یاد رہے کہ میری پہلی بیگم کی وفات کے بعد میری ساس کئی ماہ تک لاہور میں رہی اور بچّوں کی نگہداشت کرتی رہی۔ جب بھی دوسری شادی کے سلسلہ میں بات چھڑی تو انہوں نے ہمیشہ ہی یہ کہا کہ اگر میں نے شادی کی تو بچّے اچھی تعلیم و تربیت سے محروم رہیں گے۔ کیونکہ سوتیلی ماں کبھی اصل ماں نہیں بن سکتی اور وہ اپنی ماں جیسا پیار نہیں دے سکتی۔ وہ کبھی یہ بھی پوچھ بیٹھتیں کہ میرے ماں باپ تو دوسری شادی کا مشورہ نہیں دیتے؟ میں کہہ دیتا کہ کہتے تو ہیں کہ اگر میرا ارادہ ہے تو وہ میری دوسری شادی کروانے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: معروف برطانوی گلوکار لیام پین کی موت کیسے ہوئی؟ چونکا دینے والے انکشافات

سسرالی گاؤں کی طرف سفر

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں فیصل آباد سے لاہور جا رہا تھا راستے میں نہ جانے مجھے کیا سوجھی کہ میں شاہ کوٹ سے بس سے اتر کر لاہور جانے کی بجائے اپنے سسرالی گاؤں کمال پور میں چلا گیا۔ ساس اور باقی سبھی اہل خانہ نے خوشی سے استقبال کیا اور خاطر مدارت کی۔ رات کو ساس سے بات چیت کے دوران اُس نے پھر وہی بات پوچھی کہ دوسری شادی تو نہیں کر رہے؟ میں نے بتایا کہ میں اسی سلسلے میں فیصل آباد گیا تھا۔ والدین نے پیغام بھیجا تھا۔ کہنے لگیں، بچّوں کا کیا بنے گا۔ سوتیلی ماں کب بچّوں کا خیال کرے گی۔ سب سلسلہ اُلٹ پلٹ ہوجائے گا۔

رشتہ کی پیشکش

چنانچہ میرے ذہن میں جو بات تھی میں نے اُگل دی کہ اگر بچّوں کا اتنا ہی خیال ہے تو بات گھر کی گھر میں رکھ لو۔ کہنے لگی کہ میں سمجھی نہیں۔ میں نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ "اپنی پوتی کا رشتہ دے دو"۔ وہ تو انگشت بدنداں میرا منہ تکنے لگیں۔ انہوں نے کہا کہ "یہ تو رشتہ بنتا نہیں"۔ میں نے سمجھاتے ہوئے کہا کہ پہلا رشتہ پہلی بیگم کی وفات کے ساتھ ختم ہوگیا ہے لہٰذا اب پوتی کا رشتہ دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ بہرحال کافی باتیں ہوتی رہیں اور آخر کار کہنے لگیں کہ میں اپنے بیٹوں سے بات کروں گی تو پھر بتا سکوں گی۔ میں رات وہاں گذار کر صبح سویرے لاہور کے لیے روانہ ہوا۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...