کیا برطانیہ ایران کے خلاف اپنے فوجی اڈے امریکہ کو دے گا۔۔۔؟ برطانوی اخبار کا تہلکہ خیز انکشاف
برطانیہ اور ایران: ایک جنگ کی ممکنہ صورت حال
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا برطانیہ ایران کے خلاف اپنے فوجی اڈے امریکہ کو دے گا؟ برطانوی اخبار نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین اور روس پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، بھارت کے ساتھ کون ہے؟ اہم بھارتی شخصیت نے سوال اٹھا دیا۔
وزیر اعظم کی فیصلہ سازی
تفصیلات کے مطابق برطانوی اخبار ’’دی ٹیلی گراف‘‘ میں شائع مضمون کے مطابق، برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے امریکہ کو اپنے فضائی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران پر ممکنہ فضائی حملے کے لیے برطانیہ سے برطانوی رائل ایئر فورسز کے بیسز استعمال کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن برطانوی حکومت نے قانونی خدشات کے باعث اس کی منظوری نہیں دی۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں سیکیورٹی فورسز نے نئے سال پر دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا، داعش کے 357 مشتبہ ارکان گرفتار
قانونی خدشات
’’جنگ‘‘ کے مطابق برطانوی حکومتی وکلاء نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ برطانوی ایئر بیسز سے ایران پر حملہ کرتا ہے تو برطانیہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رافیل کا تباہ ہونا شدید شرمندگی اور دھچکا ہے، فرانسیسی اخبار نے بھارتی فضائیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیا
برطانیہ کی حکمت عملی
ٹیلی گراف نے حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کسی بھی ’’پیشگی حملے‘‘ میں شامل نہیں ہوگا۔
فوجی تعیناتی
برطانوی وزارتِ دفاع نے خطے میں اضافی لڑاکا طیارے تعینات کیے ہیں تاکہ اگر ایران جوابی کارروائی کرے تو برطانوی اور اتحادی اثاثوں کا دفاع کیا جا سکے۔








