کیا برطانیہ ایران کے خلاف اپنے فوجی اڈے امریکہ کو دے گا۔۔۔؟ برطانوی اخبار کا تہلکہ خیز انکشاف
برطانیہ اور ایران: ایک جنگ کی ممکنہ صورت حال
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا برطانیہ ایران کے خلاف اپنے فوجی اڈے امریکہ کو دے گا؟ برطانوی اخبار نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 5 سال سے پاکستان سٹاک ایکسچینج ڈالرز میں 7 فیصد منافع کما رہا ہے:شمشاد اختر
وزیر اعظم کی فیصلہ سازی
تفصیلات کے مطابق برطانوی اخبار ’’دی ٹیلی گراف‘‘ میں شائع مضمون کے مطابق، برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے امریکہ کو اپنے فضائی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران پر ممکنہ فضائی حملے کے لیے برطانیہ سے برطانوی رائل ایئر فورسز کے بیسز استعمال کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن برطانوی حکومت نے قانونی خدشات کے باعث اس کی منظوری نہیں دی۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کا ایران میں لڑکیوں کے سکول پر حملے پر اظہار تشویش
قانونی خدشات
’’جنگ‘‘ کے مطابق برطانوی حکومتی وکلاء نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ برطانوی ایئر بیسز سے ایران پر حملہ کرتا ہے تو برطانیہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کین ولیمسن کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ سے فوری ریٹائرمنٹ کا اعلان
برطانیہ کی حکمت عملی
ٹیلی گراف نے حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کسی بھی ’’پیشگی حملے‘‘ میں شامل نہیں ہوگا۔
فوجی تعیناتی
برطانوی وزارتِ دفاع نے خطے میں اضافی لڑاکا طیارے تعینات کیے ہیں تاکہ اگر ایران جوابی کارروائی کرے تو برطانوی اور اتحادی اثاثوں کا دفاع کیا جا سکے۔








