چیکنگ کے نام پر پولیس اہلکار وں کے ہاتھوں دوشیزہ کی مبینہ تذلیل، لڑکی نے بھانڈا پھوڑ دیا
حفاظتی چیکنگ کی آڑ میں ہراسانی
لاہور (ویب ڈیسک) ایک لڑکی کو چیکنگ کے نام پر پولیس اہلکاروں کی طرف سے مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا جس کا انکشاف لڑکی نے خود اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آج خیبرپختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس وزیراعلیٰ گنڈاپور کے معاملے پر
آنے جانے کا واقعہ
لڑکی نے گفتگو کرتے ہوئے نجی ٹی وی چینل کو بتایاکہ میں ایونٹ سے واپس آرہی تھی، پولیس نے ناکے پر روکا، شیشے سے گندی نگاہوں سے دیکھا تو میرے ڈرائیور کو کہتے ہیں کہ باہر آ، لڑکی تے تو بڑی سوہنی، واہ واہ بٹھائی اے، ایہدی تلاشی لینی اے (لڑکی تو آپ نے خوبصورت بٹھائی ہے، اس کی تلاشی لینی ہے)۔ دکاندار بھی سارے دیکھ رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیرف جنگ، چین نے خاموشی سے ایسا کام کردیا کہ ٹرمپ بھی حیران رہ جائیں
ڈرائیور کا جواب اور صورتحال کی شدت
لڑکی نے مزید بتایاکہ ڈرائیور نے پولیس اہلکاروں کو جواب دیا کہ میں تو ڈرائیور ہوں، جو بھی بات کرنی ہے کریں۔ ڈرائیور واپس گاڑی میں بیٹھا تو ایک ملازم اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا اور کہا کہ چلیں، ہم نے اس سے بات کرنی ہے، اس کی تلاشی لینے ہے۔ تو پھر میں نے مداخلت کی کہ کہیں نہیں جارہی، یہیں بات کریں۔
یہ بھی پڑھیں: یومِ تکبیر پر مسلح افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس کی عوام کو مبارکباد
تلاشی کی کوشش
ڈرائیور نے گاڑی چلائی تو اس کو رکنے کو کہا۔ میں جیسے ہی نیچے اتری تو ساتھ ہی کہتا ہے کہ تلاشی دیں، میں نے بھائی کو کال کردی لیکن اس کے پہنچنے سے پہلے ہی ملازم مجھے کہتا ہے کہ مل کر جانا ہے۔ ایس ایچ او اور اے ایس آئی وقار کو مل کر جانا ہے، وقار پولیس وین کے پاس موجود تھا جس کے ساتھ 3 دیگر اہلکار تھے، ان میں سے ایک نے مجھے کہا۔
بیگ کی تلاشی
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ میرے بیگ کی تلاشی لی۔








