چیکنگ کے نام پر پولیس اہلکار وں کے ہاتھوں دوشیزہ کی مبینہ تذلیل، لڑکی نے بھانڈا پھوڑ دیا
حفاظتی چیکنگ کی آڑ میں ہراسانی
لاہور (ویب ڈیسک) ایک لڑکی کو چیکنگ کے نام پر پولیس اہلکاروں کی طرف سے مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا جس کا انکشاف لڑکی نے خود اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل پرائز 2026 کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کر دی
آنے جانے کا واقعہ
لڑکی نے گفتگو کرتے ہوئے نجی ٹی وی چینل کو بتایاکہ میں ایونٹ سے واپس آرہی تھی، پولیس نے ناکے پر روکا، شیشے سے گندی نگاہوں سے دیکھا تو میرے ڈرائیور کو کہتے ہیں کہ باہر آ، لڑکی تے تو بڑی سوہنی، واہ واہ بٹھائی اے، ایہدی تلاشی لینی اے (لڑکی تو آپ نے خوبصورت بٹھائی ہے، اس کی تلاشی لینی ہے)۔ دکاندار بھی سارے دیکھ رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے 6 مزید ایل این جی کارگو عالمی مارکیٹ کی طرف موڑ دیئے، بڑی خبر آ گئی
ڈرائیور کا جواب اور صورتحال کی شدت
لڑکی نے مزید بتایاکہ ڈرائیور نے پولیس اہلکاروں کو جواب دیا کہ میں تو ڈرائیور ہوں، جو بھی بات کرنی ہے کریں۔ ڈرائیور واپس گاڑی میں بیٹھا تو ایک ملازم اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا اور کہا کہ چلیں، ہم نے اس سے بات کرنی ہے، اس کی تلاشی لینے ہے۔ تو پھر میں نے مداخلت کی کہ کہیں نہیں جارہی، یہیں بات کریں۔
یہ بھی پڑھیں: مالی، فوج کی حمایت کا الزام، 90 ہزار فالوورز والی ٹک ٹاکر اغوا کے بعد قتل
تلاشی کی کوشش
ڈرائیور نے گاڑی چلائی تو اس کو رکنے کو کہا۔ میں جیسے ہی نیچے اتری تو ساتھ ہی کہتا ہے کہ تلاشی دیں، میں نے بھائی کو کال کردی لیکن اس کے پہنچنے سے پہلے ہی ملازم مجھے کہتا ہے کہ مل کر جانا ہے۔ ایس ایچ او اور اے ایس آئی وقار کو مل کر جانا ہے، وقار پولیس وین کے پاس موجود تھا جس کے ساتھ 3 دیگر اہلکار تھے، ان میں سے ایک نے مجھے کہا۔
بیگ کی تلاشی
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ میرے بیگ کی تلاشی لی۔








