تعمیراتی کاموں پر خیبر پختونخوا حکومت کا ٹیکس لگانا قانونی قرار
پشاور: وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ کے خلاف دائر اپیلیں خارج کرتے ہوئے تعمیراتی خدمات پر ٹیکس عائد کرنے کو قانونی قرار دے دیا۔ جسٹس عامر فاروق نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں کسی بھی جگہ ہڑتال نہیں ہوئی، عوام نے منفی رویوں اور گالم گلوچ کو یکسر مسترد کر دیا، مریم نواز
عدالتی تشریح
عدالت نے قرار دیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ قوانین کو آئینی بنیادوں پر کالعدم قرار نہیں دے سکتی کیونکہ آئینی تشریح کا اختیار مخصوص فورم تک محدود کر دیا گیا ہے، آئینی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی عدالت یا ٹربیونل سے ریکارڈ طلب کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات، سپیکر ایاز صادق سہولت کاری کیلئے تیار
سیلز ٹیکس ایکٹ کی قانونی حیثیت
عدالت نے قرار دیا کہ خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 کے شیڈول 2 کا سیریل نمبر 14 آئین کے منافی نہیں ہے، یہ شق تعمیراتی خدمات پر ٹیکس سے متعلق ہے اور اس میں اشیاء شامل نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پرائیویٹ ٹورز آپریٹرز کی غفلت کی وجہ سے ہزاروں لوگ حج پر نہیں جاسکیں گے: وفاقی وزیر
اٹھارویں آئینی ترمیم کا حوالہ
فیصلے میں کہا گیا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد سروسز پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صوبوں کو حاصل ہے جبکہ وفاقی حکومت صرف اشیاء پر ٹیکس لگا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق شوہر کی وجہ سے گزشتہ 8 ماہ سے اپنی بیٹی سے نہیں ملی، اداکارہ صاحبہ کی والدہ کا انکشاف
ٹیکس کی دوگنا وصولی سے بچنے کے اصول
عدالت نے واضح کیا کہ کسی شہری یا کمپنی کو ایک ہی چیز پر دو مرتبہ ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے، اس کے لیے متعلقہ معاہدے اور طریقہ کار موجود ہیں۔
ریونیو اتھارٹی کی ہدایت
مزید برآں، ریونیو اتھارٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے اصول وضع کرے جن کے تحت ٹھیکیدار کے مجموعی بجٹ کو سروسز اور سامان کی مد میں الگ الگ تقسیم کیا جائے。








