تعمیراتی کاموں پر خیبر پختونخوا حکومت کا ٹیکس لگانا قانونی قرار
پشاور: وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ کے خلاف دائر اپیلیں خارج کرتے ہوئے تعمیراتی خدمات پر ٹیکس عائد کرنے کو قانونی قرار دے دیا۔ جسٹس عامر فاروق نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عدنان صدیقی کو سالگرہ کی مبارک باد دینے کے بدلے میں اُن سے کتنی رقم بٹوری؟ چاہت فتح علی خان کا ایسا انکشاف کہ سوشل میڈیا صارفین ٹوٹ پڑے۔
عدالتی تشریح
عدالت نے قرار دیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ قوانین کو آئینی بنیادوں پر کالعدم قرار نہیں دے سکتی کیونکہ آئینی تشریح کا اختیار مخصوص فورم تک محدود کر دیا گیا ہے، آئینی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی عدالت یا ٹربیونل سے ریکارڈ طلب کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: کیلیفورنیا میں طبی مرکز میں دھماکا، ایک شخص ہلاک، 4 زخمی
سیلز ٹیکس ایکٹ کی قانونی حیثیت
عدالت نے قرار دیا کہ خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 کے شیڈول 2 کا سیریل نمبر 14 آئین کے منافی نہیں ہے، یہ شق تعمیراتی خدمات پر ٹیکس سے متعلق ہے اور اس میں اشیاء شامل نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا ؟
اٹھارویں آئینی ترمیم کا حوالہ
فیصلے میں کہا گیا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد سروسز پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صوبوں کو حاصل ہے جبکہ وفاقی حکومت صرف اشیاء پر ٹیکس لگا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں چھوٹا طیارہ اڑان بھرتے ہی زمین پر آگرا
ٹیکس کی دوگنا وصولی سے بچنے کے اصول
عدالت نے واضح کیا کہ کسی شہری یا کمپنی کو ایک ہی چیز پر دو مرتبہ ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے، اس کے لیے متعلقہ معاہدے اور طریقہ کار موجود ہیں۔
ریونیو اتھارٹی کی ہدایت
مزید برآں، ریونیو اتھارٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے اصول وضع کرے جن کے تحت ٹھیکیدار کے مجموعی بجٹ کو سروسز اور سامان کی مد میں الگ الگ تقسیم کیا جائے。








