تعمیراتی کاموں پر خیبر پختونخوا حکومت کا ٹیکس لگانا قانونی قرار
پشاور: وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ کے خلاف دائر اپیلیں خارج کرتے ہوئے تعمیراتی خدمات پر ٹیکس عائد کرنے کو قانونی قرار دے دیا۔ جسٹس عامر فاروق نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: ایم کیو ایم لندن سے تعلق رکھنے والا انتہائی مطلوب ملزم گرفتار
عدالتی تشریح
عدالت نے قرار دیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ قوانین کو آئینی بنیادوں پر کالعدم قرار نہیں دے سکتی کیونکہ آئینی تشریح کا اختیار مخصوص فورم تک محدود کر دیا گیا ہے، آئینی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی عدالت یا ٹربیونل سے ریکارڈ طلب کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: کیپٹن صفدر کا بیٹے کی شادی پر مریم نواز کے ساتھ تصویر نہ بنوانے کے سوال پر دلچسپ جواب
سیلز ٹیکس ایکٹ کی قانونی حیثیت
عدالت نے قرار دیا کہ خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 کے شیڈول 2 کا سیریل نمبر 14 آئین کے منافی نہیں ہے، یہ شق تعمیراتی خدمات پر ٹیکس سے متعلق ہے اور اس میں اشیاء شامل نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہر طالبعلم کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ، ہر گاؤں میں انٹرنیٹ اور ہر ادارے میں ای فائلنگ سسٹم مشن ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
اٹھارویں آئینی ترمیم کا حوالہ
فیصلے میں کہا گیا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد سروسز پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صوبوں کو حاصل ہے جبکہ وفاقی حکومت صرف اشیاء پر ٹیکس لگا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس، نئے رولز 2025 متفقہ طور پر منظور
ٹیکس کی دوگنا وصولی سے بچنے کے اصول
عدالت نے واضح کیا کہ کسی شہری یا کمپنی کو ایک ہی چیز پر دو مرتبہ ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے، اس کے لیے متعلقہ معاہدے اور طریقہ کار موجود ہیں۔
ریونیو اتھارٹی کی ہدایت
مزید برآں، ریونیو اتھارٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے اصول وضع کرے جن کے تحت ٹھیکیدار کے مجموعی بجٹ کو سروسز اور سامان کی مد میں الگ الگ تقسیم کیا جائے。








