ملک میں اس وقت ایچ آئی وی کے 84 ہزار افراد زیر علاج ہیں، فی مریض سالانہ تقریباً 300 سے 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں، مصطفیٰ کمال
ایچ آئی وی مریضوں کی حالت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بتایا ہے کہ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت فی مریض سالانہ تقریباً 300 تا 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں اور اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوالمنڈی لاہور کا رہنے والا یہ درویش منش انسان بہت ذہین، فطین اور چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھا، پیٹ اس کا کمزوری تھا، صاحب نے وظیفہ مقرر کر رکھا تھا۔
قائمہ کمیٹی کا اجلاس
قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس چیئرمین و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں صحت کے شعبے سے متعلق ریگولیٹری اور پالیسی امور کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی فوج نے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا
ایچ آئی وی کی صورت حال کا جائزہ
اجلاس کے دوران ملک میں ایچ آئی وی کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے وزارت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں خامیوں کی نشان دہی کی، اور کہا کہ طلب کردہ متعدد تفصیلات رپورٹ میں شامل نہیں کی گئیں جن میں صوبہ بلوچستان سے متعلق ایچ آئی وی کا ڈیٹا بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز 2 مقدمات میں اشتہاری قرار
ملکی حالات اور رپورٹنگ
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت فی مریض سالانہ تقریباً 300 تا 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔ ارکان نے نشان دہی کی کہ سندھ اور پنجاب سے تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار ایچ آئی وی مریض رپورٹ ہوئے ہیں، جو تقریباً 75 فیصد بنتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تبو اپنے والد کا سرنیم ’ہاشمی‘ کیوں استعمال نہیں کرتیں؟
نئے کیسز کی تعداد
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے وضاحت کی کہ اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 19-208 میں 20 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2024 کے پہلے نو ماہ میں 9 ہزار 700 کیسز سامنے آئے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی محمد رضوان اور سلمان علی آغا سمیت اسلام آباد سے لاہور پہنچ گئے
ڈیٹا کی فراہمی میں کمی
کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ نشتر اسپتال میں ایچ آئی وی مثبت قرار دیے گئے 31 مریضوں کے علاج کی پیش رفت سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ مزید برآں، ضلع سرگودھا (کوٹ مومن) میں 19-2018 کے دوران رپورٹ ہونے والے 5 ہزار کیسز میں سے 669 کیسز کا ڈیٹا بھی دستیاب نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی دارالحکومت میں پڑنے والے ’اولوں‘ کا سائز بڑا ہونے کی وجہ محکمہ موسمیات نے بے نقاب کردی
بجٹ کی صورتحال
وزیر صحت مصطفی کمال نے بتایا کہ وزارت کے بجٹ کے حوالے سے ان کے پیشرو کے دور میں 21 ارب روپے بجٹ تھا، لیکن جب انہیں وزارت ملی تو صرف 14 ارب روپے بجٹ میں دیے گئے۔ کوئی نئی اسکیم گزشتہ سال پاس نہیں کی گئی، تین ہفتے قبل تین ارب روپے کی اسکیمیں منظور کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 5ہزار 500روپے کی کمی
اجلاس کی دیگر تفصیلات
اجلاس میں اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی اور نگرانی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ارکان نے کلینیکل نگرانی اور نفاذ کے اقدامات سے متعلق پیش رفت، رپورٹنگ میں تاخیر اور نامکمل معلومات پر تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو 26ویں اور 27ویں ترمیم نے استحکام دیا ہے، ملک کو استحکام دینے کے لیے اور ترمیم کرنا پڑی تو کریں گے، طلال چودھری
تشویش کے نکات
رکن کمیٹی شازیہ سومرو نے ذرائع کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا کہ نئی تشکیل شدہ کونسل میں گلگت بلتستان اور بلوچستان سے بعض ارکان کے پاس جعلی ڈگریاں ہیں اور مطلوبہ اہلیت موجود نہیں، جس پر کمیٹی نے معاملے کی چھان بین کی ہدایت کر دی۔
خلاصہ
وزارت نے آگاہ کیا کہ ملک بھر میں اسکریننگ اور آگاہی اقدامات جاری ہیں جبکہ پروگرام سے متعلق امور، فنڈز اور نگرانی کے نظام سے متعلق تفصیلات آئندہ بریفنگ میں فراہم کی جائیں گی۔








