ایران کے خلاف محدود فوجی حملے پر غور کر رہا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ کا ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں: Both SSPs Must Present Progress Reports or Face Arrest Warrants: Islamabad High Court Remarks in Recovery Case
ٹرمپ کے بیان کی تفصیلات
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ ایران پر محدود پیمانے پر حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ 'میرے خیال میں یہ بتا سکتا ہوں کہ میں اس بارے میں غور کررہا ہوں'۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں فری سولر پینل پراجیکٹ کیلئے 4ارب روپے جاری
اہم خبریں: وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ
اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کے خلاف محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں۔ اس حملے میں ایرانی فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
حملے کے مقاصد
امریکی اخبار کے مطابق محدود حملے پر غور کا مقصد ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنا ہے۔ اگر ایران معاہدے کو قبول نہ کرے تو حملے کو وسیع جنگ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔








