ایران کے خلاف محدود فوجی حملے پر غور کر رہا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ کا ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے 5 میں سے 4 ناراض امیدوار سینیٹ الیکشن سے دستبردار
ٹرمپ کے بیان کی تفصیلات
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ ایران پر محدود پیمانے پر حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ 'میرے خیال میں یہ بتا سکتا ہوں کہ میں اس بارے میں غور کررہا ہوں'۔
یہ بھی پڑھیں: پاک، چین شراکت داری نئے دور میں داخل ہو چکی،سی پیک نے ترقیاتی منظرنامے کو بدل دیا ہے : احسن اقبال
اہم خبریں: وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ
اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کے خلاف محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں۔ اس حملے میں ایرانی فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
حملے کے مقاصد
امریکی اخبار کے مطابق محدود حملے پر غور کا مقصد ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنا ہے۔ اگر ایران معاہدے کو قبول نہ کرے تو حملے کو وسیع جنگ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔








