شاداب بالکل درست کہہ رہا ہے، ہم ورلڈکپ میں بھارت کو نہیں ہرا سکے، انہوں نے ہرایا، انہیں عزت ملی، لیکن وہ اس عزت کو سنبھال نہ سکے، شاہد آفریدی کا جواب
شاہد آفریدی کا شاداب خان کے لیے مشورہ
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے قومی آل راؤنڈر شاداب خان کو نصیحت کی ہے کہ وہ سابق کرکٹرز پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے کھیل کے ذریعے جواب دیں۔ یہ مشورہ اس وقت دیا گیا جب شاداب خان نے بھارت کے خلاف شکست کے بعد سابق کھلاڑیوں پر طنز کیا تھا، کہ 'انہوں نے وہ نہیں کیا جو ہم نے کیا، ہم نے ورلڈکپ میں بھارت کو ہرا دیا ہے'۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے 11 نئے دانش سکولوں کے قیام کا اعلان کردیا، کہاں بنائے جائیں گے؟
شاداب خان کی تنقید پر رائے
ایک مقامی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے، شاہد آفریدی نے کہا کہ شاداب اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی کامیابیوں کا دفاع کرنے میں حق بجانب ہیں۔ تاہم، انہوں نے 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف تاریخی فتح کے بعد ٹیم کی عزت اور دباؤ کو سنبھالنے میں ناکامی کی جانب بھی اشارہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہوائی جہاز کو ٹرک پر کراچی سے حیدرآباد کیوں لے جایا گیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
شاہد آفریدی کی تنقید کا جواب
آفریدی نے کہا کہ شاداب بالکل درست کہہ رہا ہے کہ ہم ورلڈکپ میں بھارت کو نہیں ہرا سکے۔ انہیں عزت ملی، لیکن وہ اس عزت کو سنبھال نہیں سکے۔ سابق کپتان نے مزید کہا کہ عزت کو نہ سنبھالنے کا مطلب یہ ہے کہ 2021 کے بعد، ٹیم اندرونی مسائل اور انفرادی دباؤ کو درست طریقے سے سنبھالنے میں ناکام رہی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت کے 5 جنگی طیارے تباہ کردئیے، وزیر دفاع خواجہ آصف کا دعویٰ
شاداب کا دفاع
آفریدی نے شاداب کو یاد دلایا کہ جب وہ خراب فارم کے باعث ٹیم سے باہر تھے، تو کئی سابق کرکٹرز نے ان کی بھرپور حمایت کی اور ان کی آل راؤنڈ صلاحیتوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب شاداب کارکردگی نہیں دے رہا تھا، تو ہم اس حمایت میں ٹی وی پر کہتے تھے کہ شاداب ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑی کے رکتے ہی انجن علیٰحدہ ہو کر کسی روٹھے محبوب کی طرح پلیٹ فارم سے نکل کر دور کہیں دھند میں گم ہو جاتا ہے، اتنا دور کہ نظر آنا بھی بند ہو جاتا ہے۔
میدان میں کارکردگی کی اہمیت
اگرچہ آفریدی نے شاداب کے اچھے اخلاق کی تعریف کی، لیکن انہوں نے ایک بار پھر یہی مشورہ دیا کہ تنقید کا بہترین جواب میدان میں کارکردگی دینا ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے برداشت کیا اور بڑی ٹیموں کے خلاف بہترین کارکردگی دکھائی۔
نتیجہ
آفریدی نے کہا کہ شاداب نے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلے بغیر قومی ٹیم میں جگہ بنائی، اور سابق کھلاڑی آج بھی اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ آخر میں، آفریدی نے کہا کہ شاداب بالکل درست کہہ رہا ہے، اور ورلڈکپ ختم ہونے کے بعد ہمیں خاموش ہو جانا چاہیے۔








