میرے غصے سے کسی کا دل دکھا ہے تو معذرت خواہ ہوں مگر میرا غصہ جائز ہے، ابھی تک (عمران خان کو ذاتی معالج تک رسائی کی) چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے، علی امین گنڈا پور
علی امین گنڈاپور کی معذرت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ میرے غصے سے کسی کا دل دکھا ہے تو معذرت خواہ ہوں، مگر میرا غصہ جائز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈسٹرکٹ کورٹ میں بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر ، وکیل صفائی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنانے کی استدعا
عمران خان کے ذاتی معالج کی عدم دستیابی
انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو ان کا ذاتی معالج دیا جائے۔ اپنے ویڈیو بیان میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ عمران خان کی آنکھ اور صحت کے حوالے سے ہمارے تحفظات بدستور برقرار ہیں، جس نے عوام کو صحت کی مفت سہولتیں فراہم کیں، آج اپنی صحت کے معاملے میں مشکلات کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کے جی ٹاپ اور سپلائی ڈپو اڑی بھی تباہ: سیکیورٹی ذرائع
یونیورسل ہیلتھ کارڈ کا آغاز
علی امین گنڈاپور نے کہاکہ ہماری حکومت آئی تو ہم نے یونیورسل ہیلتھ کارڈ دیا اور ہر طرح کی بیماری کو اس میں کور کرتے گئے۔ جب بانی پی ٹی آئی وزیراعظم بنے تو انہوں نے پورے ملک کے عوام کو صحت کارڈ کی سہولت دی لیکن افسوس ہے کہ آج بانی پی ٹی آئی کو ان کے ذاتی معالج تک سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: 100 دن جیل میں قید رہنے کے بعد وی لاگ بنانا بھول گیا تھا، معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کا اعتراف
انسانی ہمدردی کی اپیل
انہوں نے کہا کہ میرے غصے سے کسی کا دل دکھا ہے تو معذرت خواہ ہوں، مگر میرا غصہ جائز ہے۔ اگر اس معاملے پر کسی کو غصہ نہیں آ رہا تو میرے خیال میں اس میں انسانیت نہیں ہے۔ ہم سب کو اپنے مقصد پر فوکس کرنا چاہیے اور بھرپور انداز میں آواز اٹھانی چاہیے۔
نئی درخواست
علی امین کا کہنا تھا کہ مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان تک رسائی دی جائے۔








