حکومت مساجد کو مسلم کلچرل سینٹر/کمیونٹی سینٹر کی شکل دے، تمام مسلمانوں کو بلا تفریق قرآن و سنت کی برکات سے فیض یاب ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں
مصنف کی شناخت
رانا امیر احمد خاں
یہ بھی پڑھیں: ارضی کیفیات دیکھتے ہوئے حل نکالا گیا کہ پہلے سکھر والے کنارے سے بھکر جزیرے تک ستونوں والا روایتی پْل بنایا جائے، یہ پل 1885ء میں مکمل بھی ہو گیا
قسط کی معلومات
قسط: 313
یہ بھی پڑھیں: حکومت کی آئی ایم ایف کو بجلی اور گیس بروقت مہنگی کرنے کی یقین دہانی
قرآنی حوالہ جات
سورہ آل عمران آیت نمبر: 159
ترجمہ: "جن لوگوں نے اپنے دین میں فرقے بنا دئیے اور کئی کئی گروہ بن گئے۔ اے نبیؐ! ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے پھر جو کچھ وہ دین کے ساتھ کرتے رہے ہیں وہ ان کو سب کچھ بتا دے گا۔"
سورہ الروم آیت نمبر: 32
ترجمہ: "اور اْن لوگوں میں نہ ہونا جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے اور خود فرقوں میں بٹ گئے۔"
سورہ شوریٰ آیت نمبر: 13 اس سے 15
ترجمہ: "موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا کہ اللہ کے دین کو قائم رکھنا اور اس میں فرقے نہ بنا لینا۔ یہ لوگ جو علم (قرآن) ملنے کے بعد فرقوں میں بٹ گئے ہیں صرف اپنی ضد کی وجہ سے۔ پس (فرقہ پرستی سے بچنے کے لیے) آپ ؐ اسی قرآن کی طرف لوگوں کو بلاتے رہنا۔"
سورہ الجن آیت نمبر: 17
ترجمہ: "جو شخص قرآن سے منہ پھیرے گا اللہ اس کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔"
سورہ آل عمران
ترجمہ: "تمام پیغمبروں کا مذہب اسلام تھا اور تم نے خود کو صرف مسلمان کہلانا ہے۔"
سورہ الاعراف آیت نمبر: 126
ترجمہ: "حضرت موسیٰ اور حضرت یوسف کی دعا ہمیں مسلمان کی حالت میں وفات دے۔"
سورہ الحج آیت نمبر: 78
ترجمہ: "اور تمہارے لیے تمہارے باپ ابراہیم کا دین پسند کیا اُس نے پہلے بھی اور (قرآن) میں بھی تمہارا نام مسلم رکھا تاکہ پیغمبر تمہارے بارے میں بھی گواہی دے سکیں اور اللہ کے قرآن کے ساتھ وابستہ رہو۔ فرقے مت بنانا۔ وہی تمہارا مددگار اور بہت ہی اچھا مددگار اور بہترین مدد کرنے والا ہے۔"
سورہ توبہ آیت نمبر: 55، 56، 57
ترجمہ: "منافقین اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں، درحقیقت یہ لوگ جو ہیں فرقہ سازی کرنے والے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: ہم بذریعہ بس شیخوپورہ روانہ ہوئے، ننکانہ میں قیام کے دوران خباری ہاکر کی آواز نے چوکنا کر دیا کہ گاندھی جی ایک ہندو کے ہاتھوں قتل ہو گئے ہیں
حکومتی اقدامات
لہٰذا ہماری حکومت کا فرض بنتا ہے کہ قرآنی احکامات اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 31 کے مطابق پارلیمنٹ سے قانون پاس کروائے، مساجد کو قومیائے، ان کا نظم و نسق سنبھالے اور مساجد کو مسالک اور فرقہ پرستی کی آماجگاہ بنائے رکھنے کے بجائے انہیں مسلم کلچرل سینٹر/ کمیونٹی سینٹر کی شکل دے کر تمام مسلمانوں کو بلاتفریق قرآن و سنت کی برکات سے فیض یاب ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ مساجد میں کم از کم ایم اے اسلامیات یا اس کے برابر ڈگری رکھنے والے فرقہ باز نہیں مسلمان عالم دین کو مسجد کا امام مقرر کر کے انہیں صرف قرآن و سنت کی برکات سے فیضیاب ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








