میری ساس کی سمجھ میں یہ بات آچکی تھی کہ کسی حد تک سبھی کھاتے پورے ہوسکتے ہیں۔ بچّوں کو اچھا نعم البدل مل جائے گا اور مجھے بھی، یوں سلسلہ آگے چلا

مصنف: ع۔غ۔ جانباز

قسط: 64

میری ساس نے موقع ملتے ہی اپنے بیٹوں سے اس موضوع پر بات کی تو ردِ عمل اُلٹا ہوا۔ وہ اس مشورے کو نا مناسب سمجھتے تھے۔ لیکن میری ساس کی سمجھ میں یہ بات آچکی تھی کہ اگر میں یہ رشتہ کردوں تو کسی حد تک سبھی کھاتے پورے ہوسکتے ہیں۔ بچّوں کو بھی ایک اچھا نعم البدل مل جائے گا اور مجھے بھی…… چنانچہ انہوں نے یکطرفہ طور پر اپنے بیٹوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا۔ اُن سب کو بھی پھر اس تجویز سے متفق ہونا پڑا اور یوں سلسلہ آگے چلا اور دو خاندانوں کے درمیان دوبارہ گفت و شنید کے بعد شادی کی تاریخ طے پائی۔

شادی کی تقریب

پہلی بیگم کی وفات کے ایک سال بعد میں اُسی گھر میں دوبارہ بارات لے کر گیا۔ لیکن چونکہ پہلا زخم دونوں خاندانوں کے لیے بڑا ہی کاری تھا۔ لہٰذا یہ تقریب بڑی مختصر اور روایتی جوش و خروش سے عاری رہی۔ میں ایک ویگن اور ایک کار کی سواریاں لے کر وہاں پہنچا۔ نہ کوئی آتش بازی چلی اور نہ ہی بینڈ باجا ساتھ تھا۔ سبھی باراتی چپ سادھے جا دھمکے۔ بارات کا ایک خاموش استقبال ہوا۔ نکاح ہوا۔ کھانا پُر تکلف تھا اور پھر دلہن کو کار میں سوار کر کے عازم لاہور ہوئے ویگن بھی ساتھ ساتھ چلی۔

لاہور میں مختصر تقریب

لاہور میں نہ کوئی کمرہ سجا نہ ہی کوئی رائج رسم ادا ہوئی۔ شام ڈھلے سبھی اپنے اپنے گھروں کو سدھارے۔ نہ بھائی نے دیکھا نہ بہنوں نے کچھ سمجھا، جو وہاں بچے اُن میں ایک تھا دولہا ایک تھی دلہن…… اور ایک اُس کی بوڑھی دادی اللہ اللہ خیر سلّا……

نفسیاتی اثرات

گاؤں میں وہاں بھی ایک ہمسائی "کیمو" نے ورغلایا کہ یہ بے جوڑ شادی ہے انکار کردو لیکن وہ زمانہ تھا لڑکیاں کب بڑوں کے آگے زبان کھولتی تھیں۔ شادی تو ہوئی لیکن دلہن کو شادی والا ماحول اور رنگینی دیکھنے کو نہ ملی، اور اُس کے دل میں شادی سے پیدا ہونے والی محبت کی چنگاری پیدا نہ ہوسکی۔ سب سے آخری صورتِ حال کہ جہاں بیاہی آئی نہ وہاں کوئی رسم ادا ہوئی نہ کوئی شادی مبارک کھل کر کہہ سکا۔ یہ کام بھائی بہنوں کا ہوتا ہے۔ وہ شاید میرے اس فعل یعنی دوسری شادی کو کوئی صحیح فیصلہ نہ سمجھتے تھے۔ دلہن کے گھر پر آتے ہی ہمیں چھوڑ چھاڑ کر سب اپنے اپنے گھروں کو سدھار گئے۔

نتیجہ اور نئے آغاز

اوپر بیان کردہ صورتِ حال نے دُلہن کو نفسیاتی طور پر ڈاکٹری زبان میں Mental Disadjustment میں جکڑا اور وقتی ٹھہراؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کا اثر مجھ پر پڑا اور مجھے میڈیکل ایڈوائس کی ضرورت پڑ گئی۔ پھر گاڑی سُرعت سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوئی۔ بہرحال دلہن کا دیہاتی ماحول سے آنا اور یہاں پر ایک بہتر اور آسودہ صورتِ حال نے جلد ہی اُسے یہاں پنپنے کا موقع دیا۔ اور وہ کھلے دل سے اس گھر کو اپنانے اور بچّوں کے مستقبل کو بنانے، سنوارنے کے کام میں جلد لگ گئی۔

بچوں کا رد عمل

بڑا لڑکا اعجاز سعید اُسی دوران پاکستان آرمی میں چلا گیا۔ لہٰذا اُس نے کوئی منفی رد عمل نہیں چھوڑا۔ اس سے چھوٹی بیٹی آصفہ ناز کچھ تھوڑی جذباتی سی تھی ویسے بھی لڑکیوں کو اپنی ماؤں سے زیادہ لگاؤ ہوتا ہے۔ اُس نے کچھ اس چیز کو محسوس کیا۔

گھر کی صورتحال

باقی 3 بچّے، طارق کامران، احمد ندیم، قمر ضیاء ابھی مقابلتاً چھوٹے تھے لہٰذا اُن کا کوئی منفی رد عمل سامنے نہ آیا۔ گھر کا انتظام ٹھیک چل رہا تھا۔ سب بچّے پڑھ رہے تھے۔ کوئی رکاوٹ کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ ایک گھر اُجڑ کر پھر سے آباد ہوگیا تھا۔ کوئی ڈیڑھ سال بعد اللہ نے ہمارے ہاں ایک لڑکی جس کا نام اسماء ناز رکھّا گیا اُس نے جنم لیا۔ سبھی نے خوشی کا اظہار کیا اور بڑے بچے اِس ننھی منّی گڑیا کے آنے سے بڑے خوش تھے۔

دوسری بیگم کی خصوصیات

میری دوسری بیگم گو درمیانے قد کاٹھ کی تھی لیکن ایک مضبوط جسم کی مالک تھی۔ شروع میں تو ایک اتھلیٹ کی مانند وجود رکھتی تھیں۔ کونسا کام جو گاؤں میں انہوں نے نہ کیا ہو۔ گندم کی کٹائی سے چارہ کی کٹائی، مشین سے بھینسوں کے لیے چارہ کا کُترنا…… صفائی ستھرائی وغیرہ۔ صحت اچھی ہونے کی وجہ سے گھر اور بچوں کی نگہداشت کا بوجھ آسانی سے اٹھاتی رہیں۔ یہی وجہ تھی کہ بچّوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی فرق نہ آیا۔ سب کام احسن طریقے سے ہوئے اور وقت پر ہوئے۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...