شہباز شریف کے عمران خان کے خلاف ہرجانہ کیس میں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روک دیا
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روک دیا جبکہ وزیر اعظم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کی جیت پر حماس کا ردعمل آگیا
سماعت اور دلائل
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی اور حکمِ امتناع جاری کیا۔ دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے اپنے اختلافی نوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اس مقدمہ میں میرا اختلافی نوٹ ہے، 2 جج صاحبان نے حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا۔ وکیل علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ٹانگ میں گولی لگی تھی، بانی پی ٹی آئی زخمی ہونے کے باعث کیس میں پیش نہ ہوسکے، ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی عدم پیروی پر حق دفاع کردیا اب مقدمہ میں شہادتیں ریکارڈ ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ تاریخ میں پہلی بار 1 لاکھ 25 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گئی
عدالتی سوالات
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ کتنے ارب ہرجانے کا دعوی ہے؟ وکیل نے کہا کہ 10 ارب روپے کا دعویٰ کیا گیا۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے حق دفاع ختم کرنے سے پہلے دو تاریخوں پر بانی کا زخمی ہونا تسلیم کیا، زخمی ہونا تسلیم کرنے کے بعد حق دفاع کیسے ختم کیا جاسکتا ہے؟ ہم مقدمہ میں دوسرے فریق کو نوٹس کررہے ہیں۔
پس منظر
واضح رہے 2017 میں شہبازشریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائرکیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاناما کیس پر خاموشی کے لیے انہیں شہبازشریف کی جانب سے 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ہتک عزت کا دعویٰ کیا۔








