تاریخ کا وہ راز جو ہم بھول گئے۔۔۔آج تصادم صرف سرحدوں پر نہیں خیالات کے میدان میں بھی ہو رہا ہے
شروعات
تحریر:رانا بلال یوسف
انسان جب پہلی بار اس زمین پر نمودار ہوا تو وہ فطرت کے میدان میں سب سے کمزور کھلاڑی تھا۔ نہ اس کے پاس درندوں جیسے پنجے تھے، نہ مضبوط جبڑے، نہ پرواز کی صلاحیت اور نہ ہی وہ رفتار جو اسے بقاء کی دوڑ میں فطری برتری دیتی۔ اس کے باوجود وقت کے ساتھ یہی انسان دنیا کی سب سے طاقتور نوع بن گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عادل نواز خان نے مثال قائم کر دی
انسانی کامیابی کا راز
سوال یہ نہیں کہ انسان نے یہ مقابلہ کیسے جیتا، اصل سوال یہ ہے کہ وہ جیتا کیوں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان نے محض اپنے طاقتور دماغ یا ذہانت کی وجہ سے باقی تمام انواع پر غلبہ حاصل کیا، مگر تاریخ، سائنس اور فلسفہ ایک مختلف حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے سرگرم دہشت گردوں کو ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
کہانی کہنے کا فن
انسان کی اصل طاقت صرف ذہانت نہیں تھی، بلکہ بات کو معنی دے کر دوسرے انسان تک منتقل کرنے کی صلاحیت۔ یہی فن وہ اصل قوت تھا جس نے علم کو آگے بڑھایا، تجربے کو نسلوں تک پہنچایا اور انسان کو باقی تمام انواع سے حقیقی معنوں میں ممتاز بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ماضی میں لوگ مایوس ہو کر سیاستدانوں کی طرف جاتے تھے، آج سیاستدان بے بس ہو چکے ہیں: سراج الحق
تاریخی تناظر
یہی وہ نکتہ ہے جسے یووال نوح ہراری اپنی شہرۂ آفاق کتاب "Sapiens" میں تاریخی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انسانوں نے بڑے پیمانے پر تعاون اس لیے ممکن بنایا کہ وہ مشترکہ کہانیوں پر یقین کرنا سیکھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھکر میں اغوا اور قتل کیس کا ڈراپ سین، بیوی اور آشنا ہی شہری کے قاتل نکلے
فلسفہ اور انسانی شعور
یہاں فلسفہ ہمیں اس عمل کی وضاحت دیتا ہے۔ ہیگل کے مطابق انسانی شعور کوئی جامد حقیقت نہیں ہے، بلکہ ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے۔ یہ دراصل کہانی سنانے ہی کا فلسفیانہ روپ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناخنوں پر نشانات کن خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے کا اشارہ ہیں؟
خیالات کی تقسیم
یہی منطق ہمیں نطشے کے اُس معروف استعارے تک لے جاتی ہے جو علم اور طاقت کے فرق کو سادگی سے واضح کرتا ہے۔ انسان کی اصل برتری اس صلاحیت میں تھی کہ وہ اپنے تجربے کو قابلِ ترسیل بنا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ریڈ سی فلم فیسٹیول میں پہلی بار شرکت
عصر حاضر میں بیانیے کی طاقت
جدید دور میں یہ بیانی قوت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ آج طاقت اس کے پاس نہیں جس کے پاس سب سے زیادہ وسائل ہیں بلکہ اس کے پاس ہے جو بات کو زیادہ مؤثر انداز میں بیان کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا فرض منصبی کی ادائیگی کے دوران جاں بحق پی ڈی ایم اے آفیسر کے خاندان کے لیے ایک کروڑ روپے مالی امداد کا اعلان
پاکستانی سماجی مسئلے کا حل
یہی وہ مقام ہے جہاں یہ پوری فکری بحث پاکستان کے سماجی المیے سے جڑتی ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ نہ ذہانت کی کمی ہے، نہ صلاحیت کی قلت، مسئلہ مؤثر ابلاغ کا فقدان ہے۔
نتیجہ
آخری طور پر حقیقت نہایت سادہ مگر گہری ہے، انسان کی اصل طاقت آج بھی وہی ہے جو ابتدائی انسان میں تھی، معنی تخلیق کرنا اور انہیں دوسروں تک منتقل کرنا۔ اگر ہم نے کہانی کہنا محض فن نہیں بلکہ ایک قومی مہارت کے طور پر اپنا لیا تو ہم اپنی اجتماعی کہانی خود لکھ سکیں گے۔ ورنہ تاریخ کا اصول یہی ہے کہ جو قوم اپنی کہانی خود نہیں سناتی، اس کی کہانی کوئی اور لکھ دیتا ہے۔
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








