تاریخ کا وہ راز جو ہم بھول گئے۔۔۔آج تصادم صرف سرحدوں پر نہیں خیالات کے میدان میں بھی ہو رہا ہے

شروعات

تحریر:رانا بلال یوسف
انسان جب پہلی بار اس زمین پر نمودار ہوا تو وہ فطرت کے میدان میں سب سے کمزور کھلاڑی تھا۔ نہ اس کے پاس درندوں جیسے پنجے تھے، نہ مضبوط جبڑے، نہ پرواز کی صلاحیت اور نہ ہی وہ رفتار جو اسے بقاء کی دوڑ میں فطری برتری دیتی۔ اس کے باوجود وقت کے ساتھ یہی انسان دنیا کی سب سے طاقتور نوع بن گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی اور اُنکی جماعت نریندر مودی کی زبان بول رہے ہیں: بلال اظہر کیانی

انسانی کامیابی کا راز

سوال یہ نہیں کہ انسان نے یہ مقابلہ کیسے جیتا، اصل سوال یہ ہے کہ وہ جیتا کیوں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان نے محض اپنے طاقتور دماغ یا ذہانت کی وجہ سے باقی تمام انواع پر غلبہ حاصل کیا، مگر تاریخ، سائنس اور فلسفہ ایک مختلف حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کم عمر ڈرائیور کا 50 ہزار روپے چالان ہو گیا

کہانی کہنے کا فن

انسان کی اصل طاقت صرف ذہانت نہیں تھی، بلکہ بات کو معنی دے کر دوسرے انسان تک منتقل کرنے کی صلاحیت۔ یہی فن وہ اصل قوت تھا جس نے علم کو آگے بڑھایا، تجربے کو نسلوں تک پہنچایا اور انسان کو باقی تمام انواع سے حقیقی معنوں میں ممتاز بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی شرح نمو پیشگوئی کم کر کے 2.6 فیصد کر دی

تاریخی تناظر

یہی وہ نکتہ ہے جسے یووال نوح ہراری اپنی شہرۂ آفاق کتاب "Sapiens" میں تاریخی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انسانوں نے بڑے پیمانے پر تعاون اس لیے ممکن بنایا کہ وہ مشترکہ کہانیوں پر یقین کرنا سیکھ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کی جانب سے انعامات کے اعلان کے باوجود آج تک کسی سے کوئی انعام نہیں ملا: باکسر عثمان وزیر

فلسفہ اور انسانی شعور

یہاں فلسفہ ہمیں اس عمل کی وضاحت دیتا ہے۔ ہیگل کے مطابق انسانی شعور کوئی جامد حقیقت نہیں ہے، بلکہ ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے۔ یہ دراصل کہانی سنانے ہی کا فلسفیانہ روپ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟

خیالات کی تقسیم

یہی منطق ہمیں نطشے کے اُس معروف استعارے تک لے جاتی ہے جو علم اور طاقت کے فرق کو سادگی سے واضح کرتا ہے۔ انسان کی اصل برتری اس صلاحیت میں تھی کہ وہ اپنے تجربے کو قابلِ ترسیل بنا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی توقع تھی لیکن کوئی اور راستہ نہیں تھا” سی این این سے گفتگو میں اسرائیلی وزیر خارجہ کا اعتراف

عصر حاضر میں بیانیے کی طاقت

جدید دور میں یہ بیانی قوت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ آج طاقت اس کے پاس نہیں جس کے پاس سب سے زیادہ وسائل ہیں بلکہ اس کے پاس ہے جو بات کو زیادہ مؤثر انداز میں بیان کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لیسکو نے بڑی سہولت متعارف کرا دی

پاکستانی سماجی مسئلے کا حل

یہی وہ مقام ہے جہاں یہ پوری فکری بحث پاکستان کے سماجی المیے سے جڑتی ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ نہ ذہانت کی کمی ہے، نہ صلاحیت کی قلت، مسئلہ مؤثر ابلاغ کا فقدان ہے۔

نتیجہ

آخری طور پر حقیقت نہایت سادہ مگر گہری ہے، انسان کی اصل طاقت آج بھی وہی ہے جو ابتدائی انسان میں تھی، معنی تخلیق کرنا اور انہیں دوسروں تک منتقل کرنا۔ اگر ہم نے کہانی کہنا محض فن نہیں بلکہ ایک قومی مہارت کے طور پر اپنا لیا تو ہم اپنی اجتماعی کہانی خود لکھ سکیں گے۔ ورنہ تاریخ کا اصول یہی ہے کہ جو قوم اپنی کہانی خود نہیں سناتی، اس کی کہانی کوئی اور لکھ دیتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...