قومی اسمبلی میں شراب پر پابندی کا بل جمع، غیر مسلموں کو حاصل استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز
اسلام آباد: شراب پر پابندی کے لئے آئینی ترمیم کا بل
جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکنِ قومی اسمبلی نعیمہ کشور نے ملک میں شراب پر مکمل پابندی کے حوالے سے آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نو مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس، پشاور ہائی کورٹ نے اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے قائم انکوائری کمیٹی کو مزید کام سے روک دیا
آئینی ترمیم کا مقصد
اس ترمیم کا مقصد آئین کے آرٹیکل 37 میں تبدیلی کر کے شراب کی فروخت اور استعمال پر ہر قسم کی چھوٹ ختم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرسٹیانو رونالڈو کا جلد ریٹائرمنٹ کا فیصلہ، وجہ بھی بتا دی
غیر مسلموں کے استثنیٰ کا خاتمہ
نعیمہ کشور نے تجویز دی ہے کہ آرٹیکل 37 میں موجود "غیر مسلم" کا لفظ ختم کیا جائے۔ ترمیم کی منظوری کی صورت میں شراب کے استعمال پر غیر مسلموں کو دیا گیا موجودہ آئینی استثنیٰ ختم ہو جائے گا، جس سے ملک میں اس کی دستیابی پر مکمل پابندی عائد ہو سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں: گھوٹکی: گزشتہ شب بس سے اغوا کیے گئے تمام مسافروں کو بازیاب کروالیا گیا
نا انصافی کا مسئلہ
رکنِ اسمبلی نے کہا کہ شراب کی تمام مذاہب میں ممانعت ہے، لہٰذا اقلیتوں کو شراب کے ساتھ جوڑنا ان کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔
اسلامی قوانین کے مطابق
نعیمہ کشور نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 227 واضح ہے کہ تمام قوانین قرآن و سنت کی روشنی میں بنائے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں مسلم ریاست کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ غیر مسلموں کو شراب کے پرمٹ جاری کرے۔








