قومی اسمبلی میں شراب پر پابندی کا بل جمع، غیر مسلموں کو حاصل استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز
اسلام آباد: شراب پر پابندی کے لئے آئینی ترمیم کا بل
جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکنِ قومی اسمبلی نعیمہ کشور نے ملک میں شراب پر مکمل پابندی کے حوالے سے آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویان ملڈر نے برائن لارا کا 400 رنز کا ریکارڈ نہ توڑنے کی وجہ بتا دی
آئینی ترمیم کا مقصد
اس ترمیم کا مقصد آئین کے آرٹیکل 37 میں تبدیلی کر کے شراب کی فروخت اور استعمال پر ہر قسم کی چھوٹ ختم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شاداب خان ممکنہ طور پر پاکستان کے اگلے ٹی 20 کپتان ہوں گے: شعیب ملک کا دعویٰ
غیر مسلموں کے استثنیٰ کا خاتمہ
نعیمہ کشور نے تجویز دی ہے کہ آرٹیکل 37 میں موجود "غیر مسلم" کا لفظ ختم کیا جائے۔ ترمیم کی منظوری کی صورت میں شراب کے استعمال پر غیر مسلموں کو دیا گیا موجودہ آئینی استثنیٰ ختم ہو جائے گا، جس سے ملک میں اس کی دستیابی پر مکمل پابندی عائد ہو سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں گیس لیکج کے باعث دھماکا، 8 افراد جھلس گئے
نا انصافی کا مسئلہ
رکنِ اسمبلی نے کہا کہ شراب کی تمام مذاہب میں ممانعت ہے، لہٰذا اقلیتوں کو شراب کے ساتھ جوڑنا ان کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔
اسلامی قوانین کے مطابق
نعیمہ کشور نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 227 واضح ہے کہ تمام قوانین قرآن و سنت کی روشنی میں بنائے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں مسلم ریاست کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ غیر مسلموں کو شراب کے پرمٹ جاری کرے۔








